السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس کے بارے میں کہ تبلیغی حضرات کی بیانات میں سنا ہے کہ مشورے کے فضیلت کے بارے میں کہتے ہیں کہ مسلمان کا ایک مشورہ کفار کے ستر(70) مشوروں کو باطل کر دیتا ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے اس کی کوئی دلیل ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
واضح رہے کہ جن شرعی امور کے بارے میں کوئی صریح نص موجود نہ ہو، ان امور کے بارے میں اور دنیاوی جائز معاملات میں باہمی مشورہ کرنا باعثِ برکت اور سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ نیک نیت اور درست طریقے سے مشورہ کرنے پر اجر و ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ قول ’’ایک مسلمان کا مشورہ کفار کے ستر مشوروں کو باطل کر دیتا ہے‘‘،حدیث کی کسی مستند و معتبر کتاب میں حدیث کی کسی بھی قسم (صحیح،حسن، ضعیف وغیرہ)کسی بھی شکل میں نہیں ملا، لہذا ذکرکردہ الفاظ کی نسبت جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنے ،اس کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
الدرالمنثور:(358-359، ط:دار الفكر) "وأخرج ابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم عن قتادة في قوله :وشاورهم في الأمر قال: أمر الله نبيه أن يشاور أصحابه في الأمور وهو يأتيه وحي السماء لأنه أطيب لأنفس القوم وإن القوم إذا شاور بعضهم بعضا وأرادوا بذلك وجه الله عزم لهم على رشده وأخرج ابن أبي شيبة وابن جرير وابن أبي حاتم عن الضحاك قال:ما أمر الله نبيه بالمشاورة إلا لما علم ما فيها من الفضل والبركة". فتح الباری:(340/13، ط:دار المعرفة) "وقد اختلف في متعلق المشاورة فقيل في كل شيء ليس فيه نص وقيل في الأمر الدنيوي فقط...واختلفوا في وجوبها فنقل البيهقي في المعرفة الاستحباب عن النص وبه جزم أبو نصر الفشيري في تفسيره وهو المرجح".