حظر و اباحت / بدعات و منکرات / تہوار

ننگا ڈانس اور بے حیائی پھیلانے کا حکم

فتوی نمبر : 3321 0000-00-00 14 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

جس علاقے میں ایک پروگرام میں ننگی لڑکی ڈانس کرے، اس کے بارے میں اللہ تعالی نے کیا فرمایا ہے اور ان کے لیے کیا عذاب نازل ہوگا؟ مولانا صاحب! اس کا جواب ہمیں ضرور دے دو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فحاشی اور بے حیائی پر مشتمل پروگراموں کا انعقاد کرنا گناہ کبیرہ اور ناجائز ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بے حیائی کے کاموں سے منع فرمایا ہے اور ان کے مرتکبین کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب کی وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی بے حیائی پھیلانے، برہنگی اختیار کرنے اور نامحرموں کے سامنے ستر ظاہر کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے مردوں اور عورتوں کے بارے میں وعید بیان فرمائی ہے جو لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں (ایسا باریک یا مختصر لباس پہنیں جس سے جسم نمایاں ہو) نیز ایسی عورتوں کے بارے میں بھی وعید وارد ہوئی ہے جو خود گناہ کی طرف مائل ہوں اور دوسروں کو بھی اپنی طرف مائل کریں اور مٹک مٹک کر چلیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی۔ (صحیح مسلم) اسی طرح بعض احادیثِ مبارکہ میں گانے بجانے اور لہو و لعب کی بعض محافل کے سلسلے میں زمین میں دھنسائے جانے جیسے عذابوں کی وعید بھی بیان ہوئی ہے، لہٰذا ایسی محافل کا انعقاد کرنا، جن میں فحاشی، برہنگی، نامحرموں کے سامنے بے پردگی اور دیگر غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جائے، ناجائز اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کا سبب ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسی محافل کے انعقاد سے اجتناب کریں اور حسبِ استطاعت حکمت و نرمی کے ساتھ دوسروں کو بھی ان سے روکنے کی کوشش کریں۔

القرآن الکریم:( النور24: 19) {إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} ایضاً:(الأعراف7: 33) {قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ} شعب الإيمان: (6/ 162،ط: دار الكتب العلمية) 7788 - أخبرنا أبو زكريا نا أبو العباس نا بحر نا ابن وهب أنا الليث عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال: اتقوا الله واستحيوا وتواروا ولا يغتسل أحد منكم إلا وعليه سترة وليستره أخوه ولو بثوبه. قال: ونا ابن وهب أخبرني عبد الرحمن بن سلمان عن عمرو مولى المطلب عن الحسن قال: وبلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله الناظر والمنظور إليه». قال: ونا ابن وهب حدثني يحيى بن أيوب عن محمد بن عجلان أن عمر بن عبد العزيز قال: النظر إلى عورة الصغير كالنظر إلى عورة الكبير. ایضاً :(7/ 117، ط: مكتبة الرشد ) 4759] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق وأبو بكر أحمد بن الحسن، حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب أخبرني معاوية بن صالح عن حاتم عن مالك بن أبي مريم، عن عبد الرحمن بن غنم الأشعري [عن أبي مالك الأشعري] عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "ليشربن أناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها، ويضرب على رءوسهم المعازف، يخسف الله يهم الأرض، ويجعل منهم قردة وخنازير". السنن الكبرى: (2/ 331،ط:دار الکتب العلمية) 3260 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، أخبرني أبو النضر الفقيه، ثنا عثمان بن سعيد الدارمي، وتميم بن محمد، والحسن بن سفيان قالوا: ثنا عثمان بن أبي شيبة، ثنا جرير بن عبد الحميد، عن سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صنفان من أهل النار لم أرهما قط: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مائلات مميلات رءوسهن كأمثال أسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها، وإن ريحها لتوجد من كذا وكذا "
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ننگا ڈانس اور بے حیائی پھیلانے کا حکم