کیا نماز سے گناہِ کبیرہ معاف ہوتےہیں؟

فتوی نمبر :
355
عبادات / نماز /

کیا نماز سے گناہِ کبیرہ معاف ہوتےہیں؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نماز سے گناہ کبیرہ بھی معاف ہوتے ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نماز سے گناہِ صغیرہ معاف ہوتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے:’’حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: پانچوں نمازیں, اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک ان کے درمیان کے گناہوں کے کفارہ ہوجاتے ہیں اگر بڑے گناہوں سے بچا جائے ۔‘‘(مسلم،حدیث نمبر:16-(233))
ایک اور حدیث میں ہے’’اگر کوئی مسلمان کسی فرض نماز کا وقت ہونے پر اس کے وضو ،خشوع و رکوع میں احسان کرتا ہے یعنی اس کو اس کے فرائض سنن و مستحبات کے ساتھ اچھی طرح ادا کرتا ہے تو وہ اس کے سابقہ گناہوں کے لیے کفارہ ہو جاتا ہے ،اگر وہ کبیرہ یعنی بڑے گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا ہے اور یہ ہر زمانہ کے لیے ہے۔‘‘(مسلم،حدیث نمبر:7-(228))
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز اور دیگر عبادات سے چھوٹے گناہ معاف ہوتے ہیں اور بڑے گناہ سچے دل سے توبہ کرنے سے معاف ہوتے ہیں،اسی طرح وہ گناہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے،وہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک صاحبِ حق کا حق ادا نہ کیا جائے یا اس معاف نہ کروالیا جائے۔

حوالہ جات

*صحيح مسلم:( 144/1،رقم الحديث:16-(233)،ط:دارطوق النجاة)*
حدثني أبو الطاهر، وهارون بن سعيد الأيلي قالا: أخبرنا ابن وهب ، عن أبي صخر أن عمر بن إسحاق مولى زائدة حدثه عن أبيه ، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: الصلوات ‌الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان، مكفرات ما بينهن إذا اجتنب الكبائر .

*أيضاً:(142/1، رقم الحديث:7-(228))*
حدثنا عبد بن حميد وحجاج بن الشاعر كلاهما عن أبي الوليد . قال عبد: حدثني أبو الوليد، حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص ، حدثني أبي ، عن أبيه قال: كنت عند عثمان فدعا بطهور، فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من امرئ مسلم تحضره صلاة مكتوبة، ‌فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم يؤت كبيرة، وذلك الدهر كله .


*المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم: (1/ 492،ط:دار ابن كثير)*
(قوله: ‌إذا ‌اجتنبت ‌الكبائر؛ يدل على أن الكبائر إنما تغفر بالتوبة المعبر (3) عنها بالاجتناب في قوله تعالى: {إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه نكفر عنكم سيئاتكم} وقد تقدم القول في الكبائر ما هي؟ فقوله: حتى يخرج نقيا من الذنوب يعني به: الصغائر، ولا بعد في أن يكون بعض الأشخاص تغفر له الكبائر والصغائر بحسب ما يحضره من الإخلاص بالقلب (4)، ويراعيه من الإحسان والأدب، وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.

*شرح النووي على مسلم: (3/ 112،ط:دار إحياء التراث العربي)*
معناه أن الذنوب كلها تغفر إلا الكبائر فإنها لا تغفر وليس المراد أن الذنوب تغفر مالم تكن كبيرة فان كانت لا يغفر شئ من الصغائر فإن هذا وإن كان محتملا فسياق الأحاديث يأباه قال القاضي عياض هذا المذكور في الحديث من غفران الذنوب ما لم تؤت كبيرة هو مذهب أهل السنة وأن الكبائر إنما تكفرها التوبة أو رحمة الله تعالى وفضله والله أعلم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
145
فتوی نمبر 355کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --