عبادات / نوافل عبادات / ثواب والے اعمال

میت کے ذمہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ

فتوی نمبر : 37 0000-00-00 170 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

ایک ادمی فالج کی بیماری میں فوت ھوا۔۔تقریبادوسال بستر پررہے۔۔۔روزوں اورنماز کافدیہ ورثہ پرواجب ہےیانہیں۔۔تفصلی مدلل جواب عنایت فرماییں۔۔واجرکم علی اللہ تعالی۔۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرمیت نے زندگی میں فدیہ کی وصیت کی تھی تو میت کے مال کے ایک تہائی (تیسرے حصے) میں سے ورثا پر فدیہ ادا کرنا لازم ہے،اگر وصیت نہیں کی تو واجب نہیں، البتہ اگر ادا کردیں تو یہ میت کے ساتھ بھلائی اور احسان کا معاملہ ہے۔

دلائل: الشامیة:(464/2،ط: دارالفکر) ولوماتوا بعدزوال العذر وجبت وفدی عنہ ولیہ کالفطرة بعد قدرتہ علیہ وفوتہ بوصیتہ من الثلث وان تبرع ولیہ بہ جاز. و فيها أیضاً:(72/2،ط: دارالفکر) (ولومات وعلیہ صلوات فائتة واوصی بالکفارة یعطی لکل صلوة نصف صاع من بر) ای یعطی عنہ ولیہ ای من لہ ولایة الترف فی مالہ بوصایة او وراثة فیلزمہ ذالک من الثلث ان اوصی والافلایلزم الولی ذالک لأنھاعبادة فلابد فیھامن الاختیار. الھندیة:(208/1،ط: دارالفکر) فان لم یصم حتی أدرکه الموت فعلیه ان یوصی بالفدیة کذا فی البدائع . . . . . . . . فان لم یوص وتبرع عنہ الوثة جاز ولا یلزمھم من غیر ایصاء. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دار الافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ،کراچی
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
میت کے ذمہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسجد میں داخل ہونے کے بعد صف میں موجود لوگوں کو سلام کرنا