معاملات / احکام نکاح / وکیل و گواہ

گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح کا حکم

فتوی نمبر : 448 0000-00-00 156 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

اگر کسی مرد اور عورت نے آپس میں ایجاب و قبول کر کے نکاح کر لیا، لیکن نکاح کے وقت شرعی طور پر دو گواہ موجود نہ تھے تو کیا ایسا نکاح شرعاً صحیح ہوگا ؟یا باطل شمار کیا جائے گا؟ اور اگر بعد میں وہ دونوں یہ دعویٰ کریں کہ ہم میاں بیوی ہیں تو شریعت کی رو سے ان کے اس نکاح کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نکاح کی صحت کے لیے دو عاقل، بالغ اور مسلمان مرد گواہوں (یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی شرط ہے، اگر نکاح کے وقت کوئی گواہ موجود نہ ہو تو ایسا نکاح شرعاً صحیح نہیں ہوتا، بلکہ باطل شمار کیا جاتا ہے، ایسی صورت میں ان دونوں کا یہ کہنا کہ ہم نے نکاح کر لیا تھا، شرعاً معتبر نہیں ہوگا، لہذا شرعی گواہوں کے موجودگی میں دوبارہ نکاح کیا جائے۔

*سنن الترمذي(2/ 396،رقم الحدیث:1103،ط:دارالغرب الاسلامی)* حدثنا يوسف بن حماد البصري، قال: حدثنا عبد الأعلى ، عن سعيد ، عن قتادة ، عن جابر بن زيد ، عن ابن عباس ؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «البغايا ‌اللاتي ينكحن أنفسهن بغير بينة. *الدرالمختار:(3/ 21،ط:دارالفکر)* (و) ‌شرط (‌حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الأصح.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح میں نابالغ گواہوں کی شمولیت کا شرعی حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اگرنامحرم نکاح خواں عورت کی طرف سے وکیل بنے تو وکالت کی اجازت کس طرح لیں
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح خواں کے گواہ بننے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دولہا یا اس کے وکیل کو لڑکی کی طرف سے گواہ بنانے کا حکم