احکام وراثت

ایک بھائی چار بہنوں اور ایک والدہ میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
541
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ایک بھائی چار بہنوں اور ایک والدہ میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم پانچ بہن بھائی (ایک بھائی اور چار بہنیں ہیں) اور ہماری ایک سوتیلی ماں بھی ہے ہمارے والد صاحب نے ڈھائی سال قبل ہماری والدہ کے وفات کے بعد ان سے شادی کی تھی اب حال میں ہی والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے رہنمائی فرمائیں کہ ہمارے درمیاں میراث کس طرح تقسیم ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں مرحوم کے ترکہ سے اس کی تجہیز وتکفین ،قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ثلث مال سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ کوکل اڑتالیس (48) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے مرحوم کی بیوہ کو چھ(6)حصے ،بیٹے کو چودہ(14) حصے اور ہر ایک بیٹی کو سات سات(7) حصے دیئے جائیں گے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم: [النساء 4: 11]
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ .

ايضا :
إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٞۚ فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٞ وَوَرِثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُۚ فَإِن كَانَ لَهُۥٓ إِخۡوَةٞ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِي بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍۗ .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
97
فتوی نمبر 541کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --