معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / ختنہ

ختنہ کروانے کا حکم

فتوی نمبر : 557 0000-00-00 124 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ختنہ کروانا فرض ہے یا واجب ؟اور ہمارے ہاں ایک بندہ بلا کسی عذر کے اپنے بچے کا ختنہ نہیں کروا رہا اس سے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ختنہ کروانا سنت ہے اور شعائر اسلام میں داخل ہے اور بلاعذر ختنہ نہ کروانے والا شخص گناہ گار ہے ۔

صحيح مسلم:(1/ 153، رقم الحديث : 49 - (257) ط:دارطوق النجاة) عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: « الفطرة خمس، أو ‌خمس ‌من ‌الفطرة: الختان، والاستحداد، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وقص الشارب . الهندية:(5/ 357، ط:دارالفكر) واختلفوا ‌في ‌الختان قيل إنه سنة وهو الصحيح كذا في الغرائب. الفقه الإسلامي وأدلته:(1/ 465، ط:دارالفكر) الختان: ‌سنة عند الحنفية والمالكية: واجب عند الشافعية والحنابلة للذكر والأنثى .
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ختنہ کروانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بچے کے ختنہ کروانے پر دعوت کا اہتمام کرنا