احکام وراثت

بھائی کی میراث میں دو بھائیوں اور ایک بہن کا حصہ

فتوی نمبر :
645
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بھائی کی میراث میں دو بھائیوں اور ایک بہن کا حصہ

میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوچکا ہے ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اور میری بھی شادی نہیں ہوئی ہے میرے چھوٹے بھائی کی تین بچے ہیں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں میری دو بہنیں ہیں بڑی بہن شادی کے بعد سے ہی ہمارے ساتھ ہے ان کا ایک بیٹا ہے میری چھوٹی بہن کے چار بچے ہیں تین لڑکے اور ایک لڑکی ۔ میرے بڑے بھائی کے نام پر ایک دوکان ہے اس کی کیسی تقسیم ہوگی ؟ اسی طرح انہوں نے جو رقم چھوڑی ہے اس پر کس کا کتنا حصہ ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میت کے تجہیز وتکفین اور قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد،بقیہ کل مال کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بھائی کو دو دو ،(2) اور ہر بہن کو ایک ایک(1) حصہ ملے گا ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :(النساء:/4 176)
ﵟوَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ ﵞ

الهندية: (6/ 450، ط:دارالفكر)
الخامسة - الأخوات لأب وأم للواحدة النصف وللثنتين فصاعدا الثلثان، كذا في خزانة المفتين ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
82
فتوی نمبر 645کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --