احکام وراثت

پانچ بہنوں اور چار بھائیوں کے درمیان میراث تقسیم کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
675
معاملات / ترکات / احکام وراثت

پانچ بہنوں اور چار بھائیوں کے درمیان میراث تقسیم کرنے کا طریقہ

السلام علیکم !
اگر 30 لاکھ کی جائیداد ہو تو 4 بھائیوں اور 5 بہنوں کو کتنے کتنے پیسے ملیں گے؟ برائے مہربانی جواب درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد، بقیہ جائیداد کے کل تیرہ (13) حصے کیے جائیں گے، جن میں سے ہر بیٹی کو ایک حصہ اور ہر بیٹے کو دو حصے ملیں گے۔
اس تقسیم کے اعتبار سے، تیس لاکھ (3٫000٫000) کے ترکہ میں سے، ہر بہن کو دو لاکھ، تیس ہزار، سات سو، انہتر (230٫769) روپے اور ہر بیٹے کو چار لاکھ، اکسٹھ ہزار، پانچ سو، اڑتیس (461538) روپے ملیں گے۔

حوالہ جات

*القران الکریم:(4/ 11)*
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ

*الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)*
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
69
فتوی نمبر 675کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --