میرے والد صاحب نے اپنے انتقال سے چند سال قبل اپنی ایک دوکان میرےنام لکھ دی اور میرا نام دوکان کے قانونی دستاویزات میں بھی لکھوا دیا ،میرے والدصاحب باقاعدگی سے دوکان پر آتے رہے لیکن دوکان کے تمام انتظامی امور میرے سپرد کررکھے تھے ۔
اب آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ میں یہ دوکان اپنے ذاتی استعمال میں رکھوں ؟ یا دوکان بیچ کر مجھے بھائیوں اور بہنوں کو حصہ دینا چاہیے ؟ احسن طریقےسے وضاحت فرمائیں ۔
واضح رہے کہ والد اپنی زندگی میں اگر کوئی چیز اولاد میں سے کسی کو دےاور اسے قبضہ بھی کروائے ، تو وہ اسی کا حق ہے اس میں دوسرے ورثاکاحق نہیں ،لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے والد صاحب نے دوکان آپ کے نام کرکے سارے اختیارات آپ کو دے دیئے ہیں توآپ اس دوکان کے مالک ہیں ۔
الدرالمختار :(5/ 688، ط:دارالفكر)
(وتصح بإيجاب ك وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام ولو) ذلك (على وجه المزاح) .
الهندية: (4/ 375، ط:دارالفكر)
فكقوله: وهبت هذا الشيء لك، أو ملكته لك، أو جعلته لك، أو هذا لك، أو أعطيتك، أو نحلتك هذا، فهذا كله هبة،
مجلة الأحكام العدلية: (ص22،ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب)
«فإذا وهب أحد شيئا إلى آخر لا تتم الهبة قبل القبض
امداد الاحکام : (4/ 49 ،ط:مكتبه دارالعلوم كراچی)