یورین بیگ کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
714
عبادات / نماز /

یورین بیگ کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم

محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ ہے کہ میرے ایک رشتہ دار کو یورین بیگ مستقل طور پر لگا دیا گیا ہے وہ ہمیشہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے عادی ہیں اور اب وہ پریشان ہے کہ اس حالت میں وہ مسجد جاسکتے ہیں یا نہیں ؟
براہ کرم ! شریعت کی روشنی میں مسئلہ سمجھا دیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حدیث شریف میں ایسے شخص کو مسجد آنے سے منع کیا گیا ہے جس نے کچا لہسن اور پیاز استعمال کیا ہو اسی پر قیاس کرتے ہوئے فقہائے کرام نے ہر تکلیف دہ چیز کا یہی حکم بیان کیا ہے ،لہذا پیشاب سے بھری ہوئی تھیلی(یورین بیگ ) مسجد لے جانا مسجد کے آداب کے خلاف ہے اور یہ عام طور پر نمازیوں کے لیے اذیت اور ناگواری کا باعث ہوتی ہے، اس لیے ایسا معذور شخص جس کو پیشاب کی تھیلی لگی ہو وہ عام نمازوں میں نہ جائے، بلکہ گھر میں ہی نماز ادا کرلے اس عذر کی بناپر بھی ان شاء اللہ گھر میں بھی نماز باجماعت کا ثواب ہوگا ۔
البتہ جمعہ چونکہ گھرمیں ادا نہیں کی جاسکتی، اس لیے جمعہ کے نماز کے لیےدرج ذیل شرائط کے ساتھ مسجد آنے کی گنجائش ذکرکی ہے:
۱۔ تلویث مسجد یعنی مسجد میں ناپاکی پھیلنے کا احتمال نہ ہو ۔
۲۔ تھیلی چھپی ہوئی ہو اور لوگوں کے لیے اذیت کا باعث نہ ہو ۔
۳۔ بدبو نہ ہو
۴۔ اگر تھیلی تبدیل کرنا ممکن ہو تو مسجد جانے سے پہلے تقلیل نجاست یعنی نجاست کم کرنے کے لیے تھیلی تبدیل کرکے صاف تھیلی لگائی جائے اور اگر تھیلی تبدیل کرنے میں حرج ہو تو کم از کم اس تھیلی سے پیشاب نکال لیا جائے

حوالہ جات

القرأن الكريم :[البقرة: 2862/]
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا .

صحيح مسلم:(1/ 163، رقم الحديث : 100 - (285)، ط : دار طوق النجاة )
حدثني أنس بن مالك، وهو عم إسحاق ، قال: « بينما نحن في المسجد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاء أعرابي، فقام يبول في المسجد، فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه مه. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تزرموه، دعوه، فتركوه حتى بال، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاه، فقال له: إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول ولا القذر، إنما ‌هي ‌لذكر ‌الله عز وجل والصلاة وقراءة القرآن، أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فأمر رجلا من القوم فجاء بدلو من ماء فشنه عليه .

الدر المختار شرح تنوير الأبصار:(ص89) ،ط : دار الكتب العلمية )
(و) كرهه تحريما (الوطئ فوقه، والبول والتغوط) لانه مسجد ‌إلى ‌عنان السماء (واتخاذه طريقا بغير عذر) وصرح في القنية بفسقه باعتياده (وإدخال نجاسة فيه) وعليه (فلا يجوز الاستصباح بدهن نجس فيه) ولا تطيينه بنجس (ولا البول) والفصد (فيه ولو في إناء) .

الشامية :(1/ 656، ط : دارالفكر)
وإدخال نجاسة فيه يخاف ‌منها ‌التلويث. اهـ. ومفاده الجواز لو جافة، لكن في الفتاوى الهندية: لا يدخل المسجد من على بدنه نجاسة .

المجموع شرح المهذب:(2/ 175، ط :دارالفكر)
ويحرم إدخال النجاسة إلى المسجد: فأما من ‌على ‌بدنه ‌نجاسة أو به جرح فإن خاف تلويث المسجد حرم عليه دخوله وإن أمن لم يحرم: قال المتولي هو كالمحدث ودليل هذه المسائل حديث أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال (إن هذه المساجد لا تصلح لشئ من هذا البول ولا القذر إنما هي لذكر الله وقراءة القرآن) أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رواه مسلم .

الأشباه والنظائر :(ص84، ط : دار الكتب العلمية )
ما ‌أبيح ‌للضرورة يقدر بقدرها .

کذا فی فتاوی دارالعلوم کراتشی:۸/۱۷/۴۱

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
56
فتوی نمبر 714کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --