نماز میں چھپائے جانے والے عضو کا چوتھائی حصہ کھل جانا

فتوی نمبر :
761
عبادات / نماز /

نماز میں چھپائے جانے والے عضو کا چوتھائی حصہ کھل جانا

السلام علیکم مفتی صاحب !
اگر عورت کوئی ایسے کپڑے پہن کر نماز پڑھتی ہے جو باریک ہے یعنی مکمل سوٹ ہے لیکن شلوار کے پائنچوں پر جالی کے ساتھ ڈیزائن بنا ہوا ہے اور وہ ایسی جگ پر نماز پڑھتی ہے جہاں پر کوئی غیر محرم بھی نہیں ہے اور وہ سوٹ ایسا ہے کہ جس کو پہن کر عورتیں عموماً مردوں کی مجالس میں آتی جاتی ہے تو کیا ایسا سوٹ پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج ہے؟
مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں جالی کے پائنچوں میں نظر آنے والا پنڈلی کا حصہ، مجموعی اعتبار سے چوتھائی، یا اس سے زیادہ ہو، چاہے کوئی مرد موجود ہو یا نہ ہو تو ایسی صورت میں نماز فاسد ہوگی، اگر چوتھائی سے کم ہو تو نماز مکروہ ہے، البتہ ایسے کپڑے میں نماز پڑھنے اور نامحرم مردوں کے سامنے جانے سے احتراز کیا جائے۔

حوالہ جات

ردالمحتار(408/1،ط:دارالفکر)*
والحاصل أنه يمنع الصلاة في الابتداء. ويرفعها في البقاء ح (قوله قدر أداء ركن) أي بسنته منية. قال شارحها: وذلك قدر ثلاث تسبيحات اهـ وكأنه قيد بذلك حملا للركن على القصير منه للاحتياط، وإلا فالقعود الأخير والقيام المشتمل على القراءة المسنونة أكثر من ذلك، ثم ما ذكره الشارح قول أبي يوسف. واعتبر محمد أداء الركن حقيقة، والأول المختار للاحتياط كما في شرح المنية، واحترز عما إذا انكشف ربع عضو أقل من قدر أداء ركن فلا يفسد اتفاقا لأن الانكشاف الكثير في الزمان القليل عفو كالانكشاف القليل في الزمن الكثير، وعما إذا أدى مع الانكشاف ركنا فإنها تفسد اتفاقا...
(قوله بلا صنعه) فلو به فسدت في الحال عندهم قنية قال ح: أي وإن كان أقل من أداء ركن. اهـ. وفي الخانية إذا طرح المقتدي في الزحمة أمام الإمام، أو في صف النساء أو مكان نجس، أو حولوه عن القبلة أو طرحوا إزاره، أو سقط عنه ثوبه، أو انكشفت عورته، ففيما إذا تعمد ذلك فسدت صلاته وإن قل، وإلا فإن أدى ركنا فكذلك

*النهر الفائق:(183/1،ط:دارالکتب العلمیة)*
(وكشف ربع ساقها يمنع) جواز الصلاة لأن للربع حكم الكل والأصح أن الكعب ليس بعضو مستقل بل من الساق فعلى هذا إنما يمنع ربع الساق مع ربع الكعب أو مقدار ربعهما ولا بد أن يقدر مقدار أداء ركن -

*الهندية:(58/1،ط:دارالفکر)* انكشاف ما دون الربع معفو إذا كان في عضو واحد ...وإن صلى في بيت مظلم عريانا وله ثوب طاهر لا یجوز صلاته

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
70
فتوی نمبر 761کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --