احکام وراثت

تین بھائیوں اور چار بہنوں میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
78
معاملات / ترکات / احکام وراثت

تین بھائیوں اور چار بہنوں میں تقسیم میراث

السلام علیکم
مسئلہ دریافت کرنا ہے کہ بھائی کا انتقال ہوا اس کے ورثا میں 3بھائی اور 4 بہنیں ہیں فوج کی طرف سے دیا گیا پلاٹ 5 مرلہ کیسے تقسیم ہوگا اگر کوئی بھائی مکمل پلاٹ خود رکھ لے باقی بھائی بہنوں کو رقم ادا کر لے تو جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب
واضح رہے کہ پلاٹ کی تقسیم کاطریقہ کار یہ ہے کہ پلاٹ کو دس حصوں میں تقسیم کرکے ہربھائی کو دوحصے اورہربہن کو ایک حصہ دیاجائے گا،اگر ایک بھائی،دوسرے بہن، بھائیوں کی رضامندی سے مکمل پلاٹ خودرکھ کر دوسرے بہن،بھائیوں کوان کے حصے کے بقدر رقم ادا کر دے تویہ بھی درست ہے ۔

حوالہ جات

دلائل:
القران4 :11النساء)
وان کانواخوۃ رجالاونساءافللذکر مثل حظ الأنثیین.

روح المعانی:(2/426،ط: دارالکتب العلمیة)
للذکرمثل حظ الأنثیین
والمرادانه یعدکل ذکربأنثیین حیث اجتمع الصنفان من الذکروالاناث واتحدت جھة ارثھمافیضعف للذکرنصیبه کذاقیل.

الھندية:(6/474،ط:دارالفکر)
فصل ومن صالح من الغرماءأوالورثۃ علی شئی من الترکۃ فاطرحہ کأن لم یکن ثم أقسم الباقی علی سھام الباقین.

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ،کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
113
فتوی نمبر 78کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --