جمعہ کی نماز کے ساتھ ظہر کےفرض پڑھنے کاحکم

فتوی نمبر :
813
عبادات / نماز /

جمعہ کی نماز کے ساتھ ظہر کےفرض پڑھنے کاحکم

السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ جمعہ کی نماز کی 14رکعت ہوتی ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ 6 رکعت ہے 14نہیں 14 اس طرح پڑھتے ہے کہ اس میں ظہر پڑھتے کہ اگر جمعہ قبول نہ ہوا تو ظہر تو قبول ہو گی اس کی وضاحت فرمائیں جزاک اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی جگہ جمعہ کی شرائط پائی جا رہی ہوں تو وہاں ظہر کے وقت جمعہ کی (دو رکعت) نماز پڑھنا فرض ہے،لہٰذا اگر شرائطِ جمعہ موجود ہوں اور جمعہ کی نماز ادا کرلی جائے تو اس کے بعد ظہر کی نماز پڑھنا درست نہیں۔
البتہ اگر کسی کی جمعہ کی نماز رہ جائے اور قریب میں کسی دوسری جگہ جمعہ کی نماز ملنے کی امید بھی نہ ہو تو پھر اس پر ظہر کی نماز فرض ہوگی اور یہ بات جو بعض لوگوں میں مشہور ہے کہ جمعہ کی دو فرض رکعتوں کے بعد جو چار رکعتیں پڑھی جاتی ہیں وہ ظہر کے فرض ہیں۔ یہ بات بالکل غلط ہے۔
جمعہ کے بعد جو چار رکعتیں پڑھی جاتی ہیں وہ سنتِ مؤکدہ ہیں، اور اس کے بعد کی دو رکعتیں راجح قول کے مطابق سنتِ غیر مؤکدہ ہیں۔

حوالہ جات

الشامية: (107،ط:دارالفكر)
وهي فرض مستقل ‌آكد ‌من ‌الظهر وليست بدلا عنه كما حرره الباقاني معزيا لسري
الدين بن الشحنة، وفي البحر: وقد أفتيت مرارا بعدم صلاة الاربع بعدها بنية آخر ظهر خوف اعتقاد عدم فرضية الجمعة وهو الاحتياط في زماننا، وأما من لا يخاف عليه مفسدة منها فالاولى أن تكون في بيته خفية.

البحر الرائق: (2/ 151،ط:دار الكتاب الاسلامي)
وقد صرح أصحابنا بأنها فرض ‌آكد ‌من ‌الظهر وبإكفار جاحدها اهـ.
أقول:، وقد كثر ذلك من جهلة زماننا أيضا ومنشأ جهلهم صلاة الأربع بعد الجمعة بنية الظهر، وإنما وضعها بعض المتأخرين عند الشك في صحة الجمعة بسبب رواية عدم تعددها في مصر واحد وليست هذه الرواية بالمختارة، وليس هذا القول أعني اختيار صلاة الأربع بعدها مرويا عن أبي حنيفة وصاحبيه حتى وقع لي أني أفتيت مرارا بعدم صلاتها خوفا على اعتقاد الجهلة بأنها الفرض، وأن الجمعة ليست بفرض

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
61
فتوی نمبر 813کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --