ناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں غسل کا حکم

فتوی نمبر :
2109
طہارت و نجاست / طہارت /

ناخن پالش لگے ہونے کی صورت میں غسل کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک سوال ہے اگر کسی عورت نے ناخن پالش لگائی ہو تو اس کے لیے غسل کے دوران ناخن پالش کا ہٹانا ضروری ہے یا نہیں؟کسی بندے نے کہا ہے کہ اس کو ہٹائے بغیر غسل نہیں ہوگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نیل پالش لگی ہونے کی صورت میں اگر پانی جلد تک پہنچ جاتا ہو تو غسل درست ہو جاتا ہے، لیکن اگر نیل پالش پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ بن جائے اور پانی جسم تک نہ پہنچ سکے تو ایسی حالت میں غسل صحیح نہیں ہوگا، بلکہ غسل سے پہلے نیل پالش کو اتارنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

*الدرالمختار مع رد المحتار:(154/1،ط: دار الفکر)*
ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى.

قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللا بالضرورة. قال في شرحها ولأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن.

*البحر الرائق:(14/1،ط: دارالکتاب الاسلامی)**
ولو لصق باصل ظفره طين يابس وبقى قدر راس ابرة من موضع الغسل لم يجز .

*الهندية:(4/1،ط: دارالفکر)*
في فتاوى ما وراء النهران بقى من موضع الوضوء قدر رأس ابرة او نزق باصل ظفرة طين يا بس او رطب لم يجز .

*ايضا:(4/1،ط: دارالفکر)*
وفي الجامع الصغير سئل ابو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في اظفاره الدرن او الذى يعمل عمل الطين او المراة التي صبغت اصبعها بالحناء او الصرام او المصباغ فال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم اذ لا يستطيع الامتناع عنه الا يجرح والفتوى عليه من غير فصل بين المدني والقروى.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
28
فتوی نمبر 2109کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --