احکام وراثت

ماں کا ایک بیٹااور بیٹی ایک شوہرسے اور دوسرا بیٹا دوسرے شوہر سے ہو تو میراث کیسےتقسیم ہوگی

فتوی نمبر :
957
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ماں کا ایک بیٹااور بیٹی ایک شوہرسے اور دوسرا بیٹا دوسرے شوہر سے ہو تو میراث کیسےتقسیم ہوگی

ہمارے والد 1981 میں انتقال کر گئے، وہ قطر سے والدہ کے نام پر رقم بھیجتے تھے جس سے زیور اور بعد میں والدہ و والدین نے پلاٹ خرید کر مکان بنایا اور قبضہ بھی والدہ کے پاس تھا اور کچھ پیسے بیسی میں ڈالے اب والدہ 2023 میں وفات پا گئیں ہم ایک بھائی اور ایک بہن ہیں، اور ایک سوتیلا بھائی والدہ کے پہلے شوہر سے ہے (والد سے نہیں ہے)۔ والدہ نے والد کے انتقال کے بعد چچا سے شادی کی تھی مگر ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی چچا کا بھی انتقال ہوچکا ہے اب یہ مکان کس کی ملکیت شمار ہوگا؟ والد کا یا والدہ کا؟ اور اس کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں والد کے فوت ہونے سے قبل پلاٹ کی ملکیت اور قبضہ چونکہ والدہ کے پاس تھا ،لہذا ورثہ میں سائل اور اس کی بہن اور سوتیلا (ماں شریک) بھائی سب شامل ہوں گے اور تقسیم کاطریقہ کار یہ ہوگا کہ میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد، بقیہ پلاٹ کے کل پانچ حصے کیے جائیں گے، ہر بیٹے کو دو دوحصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

*القران الکریم:(4/ 11)*
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ

*الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)*
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
67
فتوی نمبر 957کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --