مرد اور عورت کی نماز میں فرق

فتوی نمبر :
974
عبادات / نماز /

مرد اور عورت کی نماز میں فرق

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
مسئلہ یہ عرض کرنا ہے کہ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ مرد عورت کی نماز میں کوئی بھی فرق نہیں ہے اور حدیث یہ پیش کرتے ہیں صلو کما رایتمو نی اصلی کہ اس میں مطلق حکم ہے ۔رہنمائی فرمائیں جزاک اللّٰہ خیر

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مرد اور عورت کی نماز میں چند چیزوں کا فرق ہے۔
1)مرد تکبیر تحریمہ میں ہاتھ کانوں کی لو تک، جبکہ عورت صرف کندھوں تک اٹھائے گی۔
2)مرد تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ کپڑے،چادر سے باہر نکالے گا، جبکہ عورت دوپٹہ کے اندر سے ہاتھ اٹھائی گی۔
3)مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھے گا، جبکہ عورت اپنے سینے پر ہاتھ رکھے گی۔
4)مرد رکوع کے لیے اچھی طرح جھکے گا کہ کمر اور سر برابر رہے، جبکہ عورت معمولی سا جھکے گی۔
5)رکوع میں مرد انگلیاں کھول کر گھٹنے کو پکڑے گا، جبکہ عورت گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے وقت انگلیاں ملائے گی ۔
6) مرد کے لیے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم ہے، جبکہ عورت صرف گھٹنوں پر ہاتھ رکھے گی۔
7)مرد رکوع کی حالت میں گھٹنوں کو خم نہیں دے گا، جبکہ عورت تھوڑا سا خم دے گی۔
8)مرد کے لیے قیام اور رکوع میں اپنے ٹخنوں میں چار انگل کا فاصلہ رکھنا افضل ہے، جبکہ عورت کے لیے ملانا افضل ہے ۔
9)مرد رکوع و سجدے میں اعضا کو الگ الگ رکھے گا، جبکہ عورت سمٹ کر رہے گی۔
10)مرد سجدے کی حالت میں دونوں پیروں کی انگلیوں کا رخ قبلے کی طرف کرے گا ،جبکہ عورت کے لیے یہ حکم نہیں ہے ۔
11)مرد سجدے کی حالت میں کہنیوں کو اُٹھائے گا، جبکہ عورت کہنیاں بچھائے گی۔
12)مرد تشہد کی حالت میں دائیں پیر کو کھڑا کرکے بائیں پیر پر بیٹھ جائے گا ،جبکہ عورت دونوں پیر دائیں جانب نکالے گی۔
13)مرد تشہد میں انگلیوں کو اپنی حالت پر رکھے گا، جبکہ عورت انگلیاں ملائے گی ۔
14)اگر عورت جماعت میں شریک ہو اور جماعت میں کوئی غلطی پیش آئے تو عورت بائیں ہاتھ سے تالی بجا کر متوجہ کرے گی، جبکہ مرد بلند آواز سے تسبیح پڑھے گا۔
لہذا یہ کہنا کہ عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں، یہ بات صحیح نہیں ہے۔

حوالہ جات

*المعجم الكبير للطبراني:(19/22،رقم الحديث:28،ط:مكتبة ابن تيمية - القاهرة)*
عن وائل بن حجر قال: جئت النبي ﷺ فقال: «هذا وائل بن حجر جاءكم، لم يجئكم رغبة ولا رهبة، جاء حبا لله ولرسوله» وبسط له رداءه، وأجلسه إلى جنبه، وضمه إليه، وأصعد به المنبر فخطب الناس فقال لأصحابه: «ارفقوا به فإنه حديث عهد بالملك» فقلت: إن أهلي قد غلبوني على الذي لي، قال: «أنا أعطيكه وأعطيك ضعفه» فقال لي رسول الله ﷺ: «يا وائل بن حجر، إذا صليت فاجعل يديك حذاء أذنيك، والمرأة تجعل يديها حذاء ثدييها».

*مصنف عبدالرزاق:(137/3رقم :5069،ط:توزيع المكتب الإسلامي)*
عن ابن جريج، عن عطاء قال: تجتمع المرأة إذا ركعت ترفع يديها إلى بطنها، وتجتمع ما استطاعت، فإذا سجدت فلتضم يديها إليها، وتضم بطنها وصدرها إلى فخذيها، وتجتمع ما استطاعت "

*درر الحكام:(67/1،ط:دار إحياء الكتب العربية)*
قوله تحت سرته هذا سنة في حق الرجل) . وأما المرأة فالسنة في حقها الوضع على صدرها وكان ينبغي للمصنف ذكر حالها كما قدمه في الرفع للتكبير.
(قوله وصفة الوضع. . . إلخ) هذا هو المختار في حق الرجل كما في التبيين والمرأة تضع يديها على صدرها ولا تقبض بل تضع كفها الأيمن على ظهر كفها الأيسر ذكره الغزنوي.

*الشامية:(476/1،ط: دارالفكر)*
(وأخذ ركبتيه بيديه) في الركوع (وتفريج أصابعه) للرجل، ولا يندب التفريج إلا هنا، لا الضم إلا في السجود.

(قوله للرجل) أي سنة للرجل فقط، وهذا قيد للأخذ والتفريج لأن المرأة تضع يديها على ركبتيها وضعا ولا تفرج أصابعها كما في المعراج فافهم وسيأتي في الفصل أنها تخالف الرجل في خمسة وعشرين.

*وأيضاً:(477/1:،ط: دارالفكر)*
(قوله وافترش رجله اليسرى) أي مع نصب اليمنى سواء كان في القعدة الأولى أو الأخرى لأنه عليه الصلاة والسلام فعله كذلك، وما ورد من توركه عليه الصلاة والسلام محمول على حال كبره وضعفه، وكذا يفترش بين السجدتين كما في فتاوى الشيخ قاسم عن أبي السعود ومثله في شرح الشيخ إسماعيل البرجندي (قوله في تشهد الرجل) أي هو سنة فيه؛ بخلاف المرأة فإنها تتورك كما سيأتي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 974کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --