معاملات / مالی معاوضات / خرید و فروخت

اپنے سامان کی بے جا تعریف کرنا

فتوی نمبر : 2163 0000-00-00 60 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

ہم گاڑی خرید کر اس میں کام کروا کر اتوار بازار لے جاتے ہیں،خریدار جب پوچھتا ہےکہ گاڑی کلر ،شاوریا ایکسیڈنٹ شدہ تو نہیں،اگر ہوتی ہے تو ہم وہ عیب بتا دیتے ہیں،کبھی ہم اپنی گاڑی کی بے جا تعریف کرتے ہیں،کیا ہمارا یہ فعل درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے آپ اپنی گاڑی کی اتنی ہی تعریف کر سکتے ہیں جو حقیقت پر مبنی ہواور اس میں جھوٹ شامل نہ ہو،نہ ہی عیب کو چھپایا جائے۔

کما فی الصحیح المسلم: قال رسول اللہﷺ"من عش فلیس منی" الامام المسلم،مسلم بن حجاج:ج1،ص95،م رحمانیہ کما فی سنن ابن ماجہ: "المسلم اخو المسلم ولا یحل لمسلم باع من اخیہ بیعافیہ عیب الا بینہ لہ" الامام ابن ماجہ،محمد بن یزید:ج2،ص344،م رحمانیہ کما فی الشامی: لا یحل کتمان العیب فی منیع او ثمن لان الغش حرام ابن عابدین،محمد امین:ج5،ص47،م سعید
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ادھار سامان زیادہ قیمت پرفروخت کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اپنے سامان کی بے جا تعریف کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ادھار کی صورت میں مدت متعین کرنا