معاملات / مالی معاوضات / خرید و فروخت

ادھار کی صورت میں مدت متعین کرنا

فتوی نمبر : 2164 0000-00-00 95 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

میری ہول سیل کی دکان ہے،جس میں ہر طرح کے پائپ کی خرید و فروخت ہوتی ہے،پلمبر کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اٹھا کر لے جاتا ہےادھار پر، مدت کی تعین کے بغیر،کیا ہمارا اس طرح اشیاء فروخت کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے ہر نیا سودا کرتے وقت مدت متعین کرنا ضروری ہے، لہذا آپ کا اس طرح فروخت کرنا درست نہیں۔

کما فی القرآن الکریم: یا ایھا الذین آمنوا اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی فااکتبوہ البقرہ:282 کما فی الشامی: ولزم تاجیل کل دین ان قبل المدیون قولہ و لزم تاجیل کل دین الدین ما وجب فی ذمۃبعقد او استھلاک ابن عابدین،محمد امین:ج5،ص156،م سعید کما فی البحر الرائق: (وتاجیل کل دین الاالقرض) ای صح لان الدین حقہ فلہ ان یوخذۃ ابن نجیم،محمد بن حسین:ج6،ص202،م رشیدیہ
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ادھار سامان زیادہ قیمت پرفروخت کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اپنے سامان کی بے جا تعریف کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ادھار کی صورت میں مدت متعین کرنا