مفتی صاحب ! ہمارے ہاں رواج ہے کہ عورتیں عید وغیرہ کے موقع پر ہاتھوں پر مہندی لگاتے ہیں ، پوچھنا یہ تھا کہ عید کے موقع پر مہندی لگانے کا کیا حکم ہے ؟
سوال میں ذکرکردہ روایت امام عبدالرزاق بن ہمام (م211ھ)نے’’مصنف عبدالرزاق‘‘: (4/ 59 ،رقم الحدیث:6027،ط:دار التأصيل )میں ذکر کی ہے۔ ذیل میں اس کا ترجمہ اورمختصر تشریح ذکر کی جاتی ہے: *ترجمہ* پہلی روایت:امام طاؤس (رحمہ اللہ) اپنی کسی بھی لونڈی کو، خواہ وہ سیاہ فام ہو یا کوئی اور، نہیں چھوڑتے تھے مگر یہ کہ انہیں حکم دیتے کہ وہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو رنگیں (مہندی لگائیں)، اور فرماتے تھے: "یہ عید کا دن ہے۔" دوسری روایت:عبد الرزاق، ابن جریج سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر صبح تک (رات کے وقت) خضاب (مہندی) لگاتی تھیں۔ *تشریح:* واضح رہے کہ عورتوں کے لیے عید یا کسی بھی خوشی کے موقع پر ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگانا مستحب اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ یہ زینت کی چیز ہے۔جناب رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے لیے ہاتھوں پر مہندی لگانے کو پسند فرمایا ہے اور مہندی نہ لگانے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔،لہذاعورتوں کے لیے شریعت کی حدود میں رہ کر (غیر محرموں سے چھپا کر) لگانا جائز و مستحسن ہے۔ مہندی کے ڈیزائن میں جاندار کی تصویر نہ ہو اور رنگ جِرم دار (پانی نہ پہنچنے والا) نہ ہو۔
*مصنف عبد الرزاق» (4/ 59 ،الرقم: 6026،6027،ط:دار التأصيل )* عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال: أخبرني علي بن أبي حميد أن طاوسا كان لا يدع جارية لهم سوداء ولا غيرها إلا أمرهن، فيخضبن أيديهن وأرجلهن ليوم الفطر ويوم الأضحى، يقول: يوم عيد. عبد الرزاق، عن ابن جريج قال: أخبرت، أن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم كن يخضبن بعد العشاء الآخرة إلى الصبح.» *سنن أبي داود: (6/ 242 ،رقم الحدیث: 4166،ط: دار الرسالة العالمية) حدثنا محمد بن محمد الصوري، حدثنا خالد بن عبد الرحمن، حدثنا مطيع بن ميمون، عن صفية بنت عصمة عن عائشة قالت: أومت امرأة من وراء ستر بيدها كتاب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبض النبي صلى الله عليه وسلم يده، فقال: "ما أدري أيد رجل أم يد امرأة" قالت: بل امرأة، قال: "لو كنت امرأة لغيرت أظفارك" يعني بالحناء» *شرح سنن أبي داود لابن رسلان:(16/ 488،ط: دار الفلاح)* «فإن خضاب اليدين والرجلين بالحناء مستحب للزوجة من النساء، وهو حرام على الرجال إلا لحاجة التداوي ونحوه (فقالت: لا بأس به) للنساء المزوجات»