معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جھوٹ اور فریب

دکان دلانے کا وعدہ کر کے وعدہ پورا نہ کرنا

فتوی نمبر : 2730 0000-00-00 13 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

خالد نے 2005ء میں ایک دکان خریدی اور اس میں مال ڈال کر زید کے حوالے کر دی کہ وہ اس میں کام کرے۔ دونوں کے درمیان یہ معاملہ طے پایا کہ دکان سے حاصل ہونے والا نفع دونوں میں آدھا آدھا تقسیم ہوگا اور جب دکان خالی کریں گے (یعنی شراکت ختم کریں گے) تو دکان میں موجود مال بھی برابر (آدھا آدھا) تقسیم کر لیں گے۔ یہ معاملہ 2014ء تک خوش اسلوبی سے چلتا رہا۔ 2014ء میں زید کو اسی دکان کے قریب ایک اور دکان ٹھیکے (کرائے) پر مل رہی تھی۔ جب خالد کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے زید کو وہ دکان لینے سے روکا اور کہا کہ: "میں اس دکان کے برابر والی دکان خرید رہا ہوں، جو تمہارے لیے ہے۔" اس یقین دہانی کی وجہ سے زید نے وہ ٹھیکے والی دکان نہیں لی۔ اس کے بعد 2014ء سے 2020ء تک ان کا پرانا معاملہ چلتا رہا۔ 2020ء میں دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔ ان اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے اپنی شراکت ختم کر دی اور سابقہ طے شدہ شرائط کے مطابق نفع اور دکان کا مال آپس میں آدھا آدھا تقسیم کر لیا۔ زید اپنا مال اور حصہ لے کر کسی دوسری جگہ چلا گیا اور وہاں جا کر دکان کھول لی۔ بدقسمتی سے زید کا اس نئی جگہ پر کام نہیں چلا تو وہ کچھ عرصے بعد واپس آ کر خالد سے یہ مطالبہ کرنے لگا کہ: "2014ء میں تم نے مجھے دکان لینے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ برابر والی دکان میرے لیے لے رہے ہو، اس لیے وہ دکان مجھے دی جائے۔" (یہاں یہ بات واضح رہے کہ خالد نے 2014ء کے بعد وہ برابر والی دکان اپنے ذاتی پیسوں سے خریدی تھی۔ (1) دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شریعت کی رو سے زید کا 2014ء کے زبانی وعدے کو بنیاد بنا کر اس دکان کا مطالبہ کرنا درست ہے؟ (2) خالد، جس نے وہ دکان اپنے ذاتی پیسوں سے خریدی ہے، کیا اس پر شرعاً یا قانوناً یہ لازم ہے کہ وہ دکان زید کے حوالے کرے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں خالد نے زید سے یہ کہا تھا کہ وہ اس کے لیے برابر والی دکان خریدے گا، یہ ایک زبانی وعدہ ہے اور بلا عذرِ شرعی وعدہ توڑنا مسلمان کی شان نہیں ،بلکہ ناپسندیدہ عمل اور منافق کی نشانی ہے، اس لیے خالد کو چاہیے کہ وہ دکان زید کو خرید کر دلا دے، تاہم اگر خالد خریدنے سے انکار کرتا ہے تو اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی، لیکن اسے وعدہ خلافی کا گناہ ہوگا ۔

*القرآن الکریم:( الاسراء:34/17)* وَأَوْفُوْا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔولًا *صحيح البخاري:(25/8،رقم الحديث: 6095،ط:دار طوق النجاة)* حدثنا ابن سلام حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن أبي سهيل نافع بن مالك بن أبي عامر، عن أبيه، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.» *مجلة مجمع الفقه الإسلامي:652/12* فقرار المجمع يقول: الوعد ملزم للواعد ديانة إلا لعذر، وهو - أي الوعد – ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الموعود في كلفة نتيجة الوعد، وأثر الإلزام يتحدد بصورتين: إما الوفاء بالوعد وتنفيذه. وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلاعذر.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مال میں نقص چھپانے پر فروخت کاشرعی حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چرس پینے اور وعدہ خلافی کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
جھوٹی بولی لگا کر قیمت بڑھانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چائناکےمال کو یو اے ای کامال کہہ کر فروخت کرنے کاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دکان دلانے کا وعدہ کر کے وعدہ پورا نہ کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
جعلی نوٹ دھوکہ سے خرچ کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بچوں کو چوسنی دینے حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دھوکہ، ملاوٹ یا عیب چھپا کر چیز بیچنے کا حکم