کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کپڑے یا جائے نماز پر چھپکلی یا مکھی کو مسل کر مار دیا جائے تو کیا کپڑے اور جائے نماز نجس ہو جائیں گی ؟حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔
واضح رہے کہ جن جانوروں میں بہنے والا خون نہیں ہوتا، اگر انہیں مار دیا جائے اور ان کی رطوبت کپڑے یا جائے نماز پر لگ جائے تو اس سے کپڑا اور جائے نماز ناپاک نہیں ہوتے،البتہ جن جانوروں میں بہنے والا خون ہوتا ہے، اگر انہیں مار دیا جائے اور ان کا خون یا رطوبت کپڑے یا جائے نماز پر لگ جائے تو وہ ناپاک ہو جاتے ہیں، اور ان پر نماز ادا کرنے کا حکم نجاست کی مقدار کے اعتبار سے ہوگا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ مکھی میں بہنے والا خون نہیں ہوتا، اس لیے اس کے مرنے سے کپڑا یا جائے نماز ناپاک نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر چھپکلی چھوٹی ہو اور اس میں بہنے والا خون نہ ہو تو اس کے مرنے سے بھی کپڑا اور جائے نماز ناپاک نہیں ہوں گے اور ان پر نماز ادا کرنا درست ہوگا، البتہ اگر چھپکلی بڑی ہو اور اس میں بہنے والا خون ہو تو اسے مارنے یا کچلنے کی صورت میں اگر اس کا خون یا رطوبت کپڑے یا جائے نماز پر لگ جائے تو وہ ناپاک ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں اگر نجاست کی مقدار ایک درہم کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اسے پاک کیے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں ہوگا اور اگر نجاست کی مقدار ایک درہم سے کم ہو تو شرعاً اس کی معافی ہے اور اس کے ساتھ نماز ادا ہو جائے گی، تاہم اس مقدار کی نجاست کو بھی دھو لینا مستحب ہے۔
المحيط البرهاني: (1/ 114،ط:دار الكتب العلمية) «ومعلوم أن مقل الذباب في الطعام الحار مرتين توجب موته لو كان ذلك ينجس الماء لما أمر به، ولأن في الأشياء التي ليس لها دم سائل هنا لا يمكن صون الأواني عنها نحو: البق والذباب والزنابير، فالقول بالنجاسة بموت هذه الأشياء يؤدي إلى أن (لا) يوجد عصير أو خل يوصف بالحل وهذا أمر قبيح، ولأن الحيوان إنما يتنجس بالموت، فيسبب اختلاط الدم المسفوح بسائر الأجزاء ألا ترى أن العظم والشعر وما أشبههما لا يتنجس بالموت لانعدام الدم فكذا لا تتنجس هذه الحيوانات. وإذا لم تتنجس هذه الحيوانات بالموت لا يتنجس ما ماتت فيه. وأما ما له دم سائل إن كان بريا بحيث لا يعيش في الماء فموته يوجب نجاسة ما مات فيه، الماء وغيره من المائعات في ذلك على السواء؛ لأن بالموت يختلط الدم المسفوح بسائر أجزاء هذه الأشياء فتنجس هذه الأشياء بالموتں فيتنجس ما مات فيه. تحفة الفقهاء: (1/ 51،ط:دار الكتب العلمية) ومن أنواع الأنجاس الميتات وهي نوعان منها ما ليس لها دم سائل وهي ليست بنجسة عندنا خلافا للشافعي على ما نذكره والثاني ما لها دم سائل فنقول لا خلاف أن الأجزاء التي فيها دم سائل مثل اللحم والشحم والجلد ونحوها فهي نجسة لاختلاط الدم النجس بها.