نجاسات اور پاکی

چوہے کا پانی میں منہ مارنا

فتوی نمبر :
549
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

چوہے کا پانی میں منہ مارنا

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ چوہا اگر دودھ یاپانی میں منہ مارے تواس دودھ اور پانی کااستعمال جائز ہے یا نہیں ؟ جب کہ چوہا بہت بڑا ہو ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ چوہے کا جھوٹا استعمال کرنا مکروہ تنزیہی ہے ، چاہے چوہا چھوٹا ہو یا بڑا ،دونوں کا حکم ایک ہی ہے ۔

حوالہ جات

(حاشية ابن عابدين : رد المحتار: 1/ 224 ط :دارالفکر)
(قوله وسواكن بيوت) أي مما له دم سائل كالفأرة والحية والوزغة، بخلاف ما لا دم له كالخنفس والصرصر والعقرب فإنه لا يكره .

(المحيط البرهاني:1/ 126، ط: دار الكتب العلمية )
وكذلك ‌سؤر ‌ما ‌يسكن البيوت من الحشرات كالفأرة والحية والوزغة مكروه .

(الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:1/ 282 ، ط: دار الفكر)
‌سؤر ‌طاهر ‌مكروه تنزيهاً استعماله مع وجود غيره: وهو سؤر الهرة، والدجاجة المخلاة
...وسواكن البيوت كالحية والفأرة،.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
84
فتوی نمبر 549کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --