احکام وراثت

چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

فتوی نمبر :
1000
معاملات / ترکات / احکام وراثت

چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مکان جس کی کل مالیت 1کڑور 90لاکھ روپے ہے، اس کو 4 بھائی اور 3 بہنوں میں کس طرح تقسیم کیا جائے ؟
اور جس کی ملکیت تھی اس نے وصیت کی تھی کہ اس مکان کا آدھا حصہ یا آدھی رقم مسجد کیلئے وقف ہے اور آج وصیت کرنے والا موجود نہیں ہے، سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا یہ وصیت نصف مال میں ہوگی یا ثلث میں اور کیا انتقال کے بعد وصیت فاسد ہوجاتی ہے، وصیت کرنے والے نے اپنے بچوں سے اسٹامپ پیپر پر دستخط بھی کروائے تھے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وصیت اس کام کو کہتے ہیں، جس پر عمل کرنے کا حکم موت کے بعد ہو ، لہذا موت کے بعد وصیت فاسد نہیں ہوتی اور اگر کوئی شخص وصیت کرے تو اس کی وصیت صرف تہائی مال میں نافذ ہوگی، تہائی مال سے زیادہ میں وصیت نافذ نہیں ہوگی۔
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین کے بعد کل مال کے ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ مال کو گیارہ (11) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ہر بیٹے کو دو اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا، اس تقسیم کی رو سے1کڑور90لاکھ روپے کی رقم میں سے 6333333 (تریسٹھ لاکھ،تینتیس ہزار، تین سو، تینتیس روپے میں وصیت نافذ کی جائے گی اور بقیہ ایک کروڑ، چھبیس لاکھ، چھ ہزار، چھ سو، چھیاسٹھ روپے، چھیاسٹھ پیسوں (126666.66)میں سے ہر بیٹی کو گیارہ لاکھ، اکیاون ہزار، پانچ سو، پندرہ (11,51515) روپے اور ہر لڑکے کو تیئیس لاکھ، تین ہزار، تیس (23,03030) روپے دیے جائیں گے۔

حوالہ جات

*القران الکریم:(4/ 11)*
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ

*الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)*
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.

*فتح القدير للكمال ابن همام:(415/10:دار الفكر)*
(قوله ولا تجوز بما زاد على الثلث لقوله عليه الصلاة والسلام في حديث سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه «الثلث والثلث كثير» بعدما نفى وصيته بالكل والنصف) قال بعض المتأخرين: يعني أن هذا الحديث دل على عدم جواز الوصية بما زاد على الثلث صراحة، وقوله عليه الصلاة والسلام «إن الله تعالى تصدق عليكم بثلث أموالكم» إلخ وإن دل عليه أيضا لأنه دل على جواز الوصية بالثلث على خلاف القياس فبقي ما فوقه بالكل والنصف، ولأنه حق الورثة، وهذا لأنه انعقد سبب الزوال إليهم وهو استغناؤه عن المال فأوجب تعلق حقهم به، إلا أن الشرع لم يظهره في حق الأجانب بقدر الثلث ليتدارك مصيره على ما بيناه

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
57
فتوی نمبر 1000کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --