سورہ العصر میں وتواصوا بالحق چھوڑنے سے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
1006
عبادات / نماز /

سورہ العصر میں وتواصوا بالحق چھوڑنے سے نماز کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! امید ہے خیر و عافیت سے ہوں گے، کل عشاء کی نماز میں امام صاحب نے سورۃ العصر پوری پڑھی، لیکن اس میں وتواصوا بالحق کو چھوڑ دیا، کیا نماز ادا ہوگئی یا دوبارہ پڑھنا لازم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں وتواصوا بالحق چھوڑنے سے چونکہ معنی میں کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں آتا، اس لیے نماز ہو جائے گی، لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(86/1،ط: دارالفكر)*
ولو زاد كلمة أو نقص كلمة أو نقص حرفا، أو قدمه أو بدله بآخر نحو: من ثمره إذا أثمر واستحصد - تعالى جد ربنا - انفرجت - بدل - انفجرت - أياب بدل - أواب - لم تفسد ما لم يتغير المعنى.

*الشامية:(632/1،ط: دارالفكر)*
(قوله أو نقص كلمة) كذا في بعض النسخ ولم يمثل له الشارح. قال في شرح المنية: وإن ترك كلمة - من آية - فإن لم تغير المعنى مثل - وجزاء سيئة - مثلها - بترك سيئة الثانية لا تفسد وإن غيرت، مثل - فما لهم يؤمنون - بترك لا، فإنه يفسد. عند العامة؛ وقيل لا والصحيح الأول.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
46
فتوی نمبر 1006کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --