سودا کینسل ہونے کی صورت میں ایجنٹ کے کمیشن کا حکم

فتوی نمبر :
103
/ /

سودا کینسل ہونے کی صورت میں ایجنٹ کے کمیشن کا حکم

بکر نے ایک پلاٹ بیچتے ہوۓ ہوئے بیانہ 20000 رپے بھی وصول کرليے۔۔لیکن کسی بات پر خرید وفروخت کا یہ معاملہ ختم ہوا۔۔اب شرعی اعتبار سے تو بیانہ واپس کردیا۔۔لیکن جو رقم ایجنٹ کو اسکی (خرید وفروخت میں) کوششوں اور خدمات کی وجہ سے دی تھی۔۔وہ کون ادا کرے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب حامدا ومصلیا

سودا کینسل ہونے کی صورت میں ایجنٹ جانبین ( بائع اور خریدار) سے معروف اجرت(سروس چارجز) وصول کر سکتا ہے۔

حوالہ جات

دلائل:

الشامیة:(6/64،ط: دارالفکر )
اما الدلال فان باع العین بنفسہ باذن ربھا فاجرتہ علی البائع وان سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف.

المبسوط للسرخسي:(15/ 115،ط:دارالمعرفة)
والسمسار اسم لمن يعمل للغير بالأجر بيعا وشراء ومقصوده من إيراد الحديث بيان جواز ذلك؛ ولهذا بين في الباب طريق الجواز، ثم ذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم سماهم بما هو أحسن مما كانوا يسمون به أنفسهم وهو الأليق بكرم رسول الله صلى الله عليه وسلم وحسن معاملته مع الناس وإنما كان اسم التجار أحسن)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ،کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
81
فتوی نمبر 103کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155