ہمارے والد (جو سب سے بڑے بیٹے تھے) کا انتقال دادا کے انتقال سے پہلے ہوگیا تھا بعد میں دادا کا انتقال ہوا تو چچاؤں نے ساری جائیداد بیچ کر گھر خرید لیے اور کاروبار شروع کرلیا اب شرعاً وراثت میں ہمیں بھی اتنا ہی حصہ ملے گا جتنا باقی بھائیوں (یعنی دادا کے بیٹوں) کو ملا ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ کوئی شخص شرعاً اسی صورت میں وارث بنتا ہے، جب وہ مورث (یعنی وہ شخص جس کی میراث تقسیم ہونی ہے) کے انتقال کے وقت زندہ ہو۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے والد کی زندگی میں ہی وفات پا جائے تو وہ والد کی میراث کا وارث نہیں بنے گا، کیونکہ وہ والد کے انتقال کے وقت زندہ نہیں تھا۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے والد آپ کے دادا کی زندگی میں وفات پا چکے ہیں، اس لیے وہ خود وارث نہیں بن سکتے لہذا آپ حضرات کا دادا کے ترکہ میں حصہ نہیں بنتا ۔
*القرآن الکریم:(النساء7:3)* قال اللہ تعالیٰ : لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ وَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَ الْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا *صحيح البخاري:(2476/6، رقم الحديث:6351 ط:دار ابن كثير)* حدثنا موسى بن إسماعيل: حدثنا وهيب: حدثنا ابن طاوس، عن أبيه، عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي ﷺ قال: (ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر). *تكملة حاشية إبن عابدين:(349/7،ط: دارالفكر)* وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل والعلم بجهل إرثه.