کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بیٹے نے والد کی زندگی میں اپنی کمائی سے مکان خریدا ہو تو کیا اس کو بھی والد کی وراثت میں شامل کیا جائے گا ؟
میراث صرف اسی مال میں جاری ہوتی ہے جو میت کی ملکیت ہو اور دوسروں کے حقوق سے خالی ہو، اس لیے اگر بیٹے نے کوئی مکان اپنی محنت یا اپنے پیسوں سے خریدا ہے تو وہ والد کی ملکیت نہیں سمجھا جائے گا اور اسے میراث میں شامل نہیں کیا جائے گا، البتہ اگر بیٹا والد کے ساتھ کاروبار میں مددگار تھا تو پھر وہ مکان میراث میں شامل ہوگا۔
*الهندية:(329/2،ط:دارالفكر)* أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له. *العقود الدرية:(17/2،ط:دار المعرفة)* (أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه. وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اهـ.