ضرورت مند کو قرض کی جگہ کوئی چیز مہنگے دام بیچنا

فتوی نمبر :
1061
معاملات / مالی معاوضات /

ضرورت مند کو قرض کی جگہ کوئی چیز مہنگے دام بیچنا

ایک شخص اپنی کاروباری ضروریات کو پورا کرنے یا کاروبار کو بڑھانے کے لیے کسی سے تین لاکھ روپے قرض لیتا ہے، لیکن وہ بندہ اس کو قرض نہیں دیتا ، بلکہ بازار سے اس کے لیے تین لاکھ روپے کے ٹائر خرید کر ساڑھے چار لاکھ روپے کا اس کو ایک سال کی مدت پر ادھار فروخت کرتا ہے اور یہ قرض لینے والا ان ٹائر کو واپس مارکیٹ میں تین لاکھ کا بیچ کر اس نقد رقم سے اپنی ضرورت پوری کرتا ہے ۔
اس طرح کے معاملے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ طریقہ کار اگرچہ جائز ہے، لیکن اس میں ضرورت مند کی حاجت پوری کرنے کے بجائے دنیاداری اور مفاد پرستی غالب ہے اور اس میں براہ راست سود سے بچنے کے لیے مذکورہ حیلہ اختیار کیا گیا ہے، اس لیے یہ طریقہ ناپسندیدہ ہے۔
بلکہ بہتر یہ ہے کہ بلا سود ضرورت مند کو قرض فراہم کیا جائے، احادیثِ مبارکہ میں قرض کی صورت میں بھی کسی کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
چنانچہ حدیث مبارکہ ہے :
’’ حضرت براء رضی اللّہ عنہ راوی ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص دودھ کا جانور کسی کو عاریۃً دے یا چاندی (یعنی روپیہ وغیرہ) قرض دے یا کسی راستہ بھولے ہوئے اور نابینا کو کوچہ و راستہ میں راہ بتائے تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کی مانند ثواب ہو گا۔ (ترمذی، مشکواۃ المصابیح الرقم:1917) ‘‘۔

حوالہ جات

*مسند احمد:(188/33،الرقم:19977 ط:موسسة الرسالة)*
’’ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ»‘‘.

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی کا کسی دوسرے بھائی پر کوئی حق (قرضہ وغیرہ) واجب الادا ہو اور وہ اس مقروض کو ادا کرنے کے لیے دیر تک مہلت دے دی تو اس کو ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ملے گا۔

*الشامیة:(326/5،ط: دارالفکر)*
ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود."

*فتح القدیر:(213/7،ط: دارالفکر)*
"ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه، وإلا فلا كراهة، إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات، كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائماً بل هو مندوب، فإن تركه بمجرد رغبة عنه إلى زيادة الدنيا فمكروه أو لعارض يعذر به فلا، وإنما يعرف ذلك في خصوصيات المواد ومالم ترجع إليه العين التي خرجت منه لايسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقاً، وإلا فكل بيع بيع العينة ".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
66
فتوی نمبر 1061کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --