غیرمحرم سے ہاتھ ملانا اور دیکھنا

فتوی نمبر :
1391
معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ /

غیرمحرم سے ہاتھ ملانا اور دیکھنا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک مسئلہ ہے وضاحت چاہیےکہ ایک منگنی ہو رہی ہو نکاح نہیں اور جس سے منگنی ہو رہی ہو وہ سعودی میں ہو، مگر اس کا باپ کہے کہ مجھے اس لڑکی کو دیکھنا ہے اور پھر جب آتا ہے تو اس سے ہاتھ بھی ملاتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟
وضاحت چاہیے لڑکے کے گھر کی عورتوں سب نے لڑکی کو دیکھ لیا ہو تو کیا سسر کے ساتھ وہ لڑکی نکاح سے پہلے ہاتھ ملا سکتی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر لڑکی اور لڑکےکا باپ دونوں آپس میں محرم ہوں تو دونوں کا ہاتھ ملانا یاایک دوسرے کو دیکھنا درست ہے اور اگر نامحرم ہوں تو درست نہیں۔

حوالہ جات

*القران الکریم:(30/24)*
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ

*الدر المختار:(367/6،ط:دارالفکر)*
(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته).

*البحر الرائق:(221/8،ط:دارالکتاب الاسلامی)*
(ويمس ما يحل له النظر إليه) يعني ‌يجوز ‌أن ‌يمس ‌ما ‌حل له النظر إليه من محارمه ومن الرجل لا من الأجنبية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1391کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --