احکام وراثت

بیٹیوں کے ہوتے ہوئے میراث میں حقیقی بہن کا حصہ

فتوی نمبر :
1086
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بیٹیوں کے ہوتے ہوئے میراث میں حقیقی بہن کا حصہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوا اس کی دو بیٹیاں ہیں اور ایک بہن ہے اب اس کا ترکہ کس طرح تقسیم کیا جائے
براہ کرم ! شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز وتکفین، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد، بچ جانے والی رقم کے کل تین حصے کیے جائیں گے، جس میں سے ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ اور ایک حصہ مرحومہ کی حقیقی بہن کو دیا جائے گا۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:(النساء:11:4)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ.
سنن الترمذي:(598/3،رقم الحديث:2092،ط: دار الغرب الاسلامي)
عبد الله قال: «جاءت امرأة سعد بن الربيع» بابنتيها من سعد إلى رسول الله ﷺ، فقالت: يا رسول الله هاتان ابنتا سعد بن الربيع قتل أبوهما معك يوم أحد شهيدا، وإن عمهما أخذ مالهما، فلم يدع لهما مالا ولا تنكحان إلا ولهما مال، قال: يقضي الله في ذلك، فنزلت آية الميراث، فبعث رسول الله ﷺ إلى عمهما، فقال: أعط ابنتي سعد الثلثين، وأعط أمهما الثمن، وما بقي فهو لك.
الهندية:(450/6،ط: دار الفکر)
الخامسة ـ الأخوات لأب وأم للواحدة النصف وللثنتين فصاعدا الثلثان، كذا في خزانة المفتين ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين، ولهن الباقي مع البنات أومع بنات الابن، كذا في الكافي.
السراج في الميراث:( رقم الصفحة:25،ط: المكتبه البشرى)
ولهن الباقي مع البنات او مع بنات الابن

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
48
فتوی نمبر 1086کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --