کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری ایک دوست کی شادی ہے انہوں نے مجھے بھی دعوت دی ہے ، لیکن اس کا والد بینک میں ملازم ہے ۔
پوچھنا یہ ہے کہ ایسی دعوت میں کھانا شرعا کیسا ہے ؟
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے مال کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کا مال حرام ہے، تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر اس کا کل مال حرام کا ہو تب توا س کی دعوت قبول کرنا ، اس کا ہدیہ لینا جائز نہیں ، اور اگر اس کا مال حلال وحرام دونوں کا مجموعہ ہو تو پھر اگر اکثر مال حلال ہے تو اس کی دعوت قبول کرنا جائز ہے ۔
پوچھی گئی صورت میں اگر بینک کے ملازمت کے علاوہ ان کا کوئی اور حلال ذریعہ آمدن ہو تو پھر اس شادی میں شرکت کی گنجائش ہے ۔
الهندية: (5/ 343، ط: دارالفكر)
آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.
مجمع الأنهر: (2/ 529، ط: دار إحياء التراث العربي )
وفي البزازية غالب مال المهدي إن حلالا لا بأس بقبول هديته وأكل ماله ما لم يتبين أنه من حرام؛ لأن أموال الناس لا يخلو عن حرام فيعتبر الغالب وإن غالب ماله الحرام لا يقبلها ولا يأكل إلا إذا قال إنه حلال أورثته واستقرضته.
بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية : (4/ 267، ط: مطبعة الحلبي )
عن البزازية غالب مال المهدي إن حلالا لا بأس بقبول هديته وأكل ماله ما لم يتبين أنه من حرام وإن غالب ماله حراما لا يقبلها ولا يأكل لا إذا قال: إنه حلال ورثه أو استقرضه فلو كان غالب ماله حلالا لا بأس به ما لم يتبين أنه حرام.