غیر رائج الوقت کرنسی کی خرید وفروخت

فتوی نمبر :
1130
معاملات / مالی معاوضات /

غیر رائج الوقت کرنسی کی خرید وفروخت

کیا پرانے نوٹ اور سکے کو اس سے کئی گناہ زیادہ قیمت پر بیچنا یا خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر پرانے نوٹ اور سکے جو حکومت وقت کی طرف سے منسوخ کردیئے گئے ہوں اور لوگوں نے اس کے ذریعے لین دین چھوڑ دیا ہو تواب اس کی حیثیت عروض ( عام سامان ) کی ہوگئی ہے لہذا اس طرح کی کرنسی کو اس کی اصل قیمت سے زیادہ پر خریدنا اوربیچنا جائز ہے ۔
البتہ جو نوٹ ابھی بھی رائج ہے یعنی اس کے ذریعے کاروبار ہوتا ہے اس کو اس کے نئے ہونے کی وجہ سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار: (5/ 172، ط: دارالفكر)
فإن وجدا ‌حرم ‌الفضل) أي الزيادة (والنساء) بالمد التأخير فلم يجز بيع قفيز بر بقفيز منه متساويا .

البحر الرائق: (6/ 139، ط: دار الكتاب الإسلامي )
(وحرم ‌الفضل ‌والنساء بهما) أي بالقدر والجنس لوجود العلة بتمامها .

الهداية : (3/ 61، دار احياء التراث العربي )
قال: "وإذا ‌عدم ‌الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء" لعدم العلة المحرمة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
64
فتوی نمبر 1130کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --