سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تجدید نکاح میں نیا مہر مقرر کرنا ہوگا یا پرانا مہر کافی ہے ؟
الجواب باسم ملہم الصواب نکاح میں مہر مقرر کرنا شرط ہے ، لہذا تجدید نکاح کی صورت میں بھی دو گواہوں کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کرنا ضروری ہے ۔
دلائل : قرآن الکریم :(النساء4: 24) وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ أَن تَبۡتَغُواْ بِأَمۡوَٰلِكُم الشامية:( 3/102،ط :دارالفكر) لو طلقها بائنا بعد الدخول، ثم تزوجها في العدة وجب كمال المهر الثاني . الموسوعة الفقهية :(39/ 151،ط:دارالسلاسل) المهر واجب في كل نكاح لقوله تعالى: {وأحل لكم ما وراء ذلكم أن تبتغوا بأموالكم}. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب سیف اللہ خالد متخصص جامعہ دارالعلوم حنفیہ