مفتی صاحب!
عقد نكاح میں مہر کی صورت میں سونے کا تذکرہ کر کے زمین اور نقدی کا تذکرہ نہ کیا جائے، باقی گھر والوں کو پتہ نہ چلنے کی وجہ سے اور پھر نکاح نامہ میں سونے اور زمین اور نقد تینوں کا تذکرہ کیا جائے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اور پھر لڑکی کی طرف سے زمین اور نقدی کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ نکاح کے وقت جس قدر مہر باقاعدہ طور پر طے کیا جائے، اسی کی ادائیگی شوہر پر واجب ہوتی ہے، البتہ نکاح فارم میں اگر بعد میں اپنی طرف سے کسی ایسی چیز کا اضافہ کر دیا جائے، جو عقد کے وقت طے نہیں ہوئی تھی تو وہ شوہر پر بطورِ مہر لازم نہیں، تاہم اگر شوہر اپنی خوش دلی اور رضامندی سے وہ
اضافی چیز بھی ادا کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اسے مہر ہی کا حصہ شمار کیا جا سکتا ہے۔
*ردالمحتار:(161/3،ط: دار الفکر)*
[مطلب في مهر السر ومهر العلانية]
(قوله المهر مهر السر إلخ) المسألة على وجهين الأول تواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر والجنس واحد، فإن اتفقا على المواضعة فالمهر مهر السر وإلا فالمسمى في العقد ما لم يبرهن الزوج على أن الزيادة سمعة وإن اختلف الجنس، فإن لم يتفقا على المواضعة فالمهر هو المسمى في العقد، وإن اتفقا عليها انعقد بمهر المثل، وإن تواضعا في السر على أن المهر دنانير ثم تعاقدا في العلانية على أن لا مهر لها فالمهر ما في السر من الدنانير لأنه لم يوجد ما يوجب الإعراض عنها وإن تعاقدا على أن لا تكون الدنانير مهرا لها أو سكتا في العلانية عن المهر انعقد بمهر المثل.
*المبسوط للسرخسي:(87/5،ط: دار المعرفة)*
(قال:) وإذا تزوجها على مهر في السر وسمع في العلانية بأكثر منه يؤخذ بالعلانية، وهذا على وجهين: إن كانا تواضعا في السر على مهر ثم تعاقدا في العلانية بأكثر منه فالمهر مهر العلانية؛ لأن تلك المواضعة ما كانت لازمة وجعل ما عقدا عليه في العلانية بمنزلة الزيادة في مهرها إلا أن يكون أشهد عليها أو على وليها الذي زوجها منه أن المهر هو الذي في السر.