کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے گزشتہ روز پہلے مجھے مذاق میں میسج کیا جس میں یہ کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں میں تجھے طلاق دیتا ہوں میں تجھے طلا ق دیتا ہوں ۔
آیا ایسا بولنے سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ طلاق سنجیدگی سے دی جائے یا بطورِ مذاق ، اسی طرح زبانی دی جائے یا میسج وغیرہ میں لکھ کر،بہر صورت واقع ہوجاتی ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور نکاح ختم ہوچکا ہے۔
تین طلاقیں واقع ہونے کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق نہیں رہتا اور نہ ہی عدت کے بعد وہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، جب تک عورت کسی اور مرد سے نکاح کر کے اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کر لے،پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ وفات پا جائے اور اس کی عدت مکمل ہو جائے تو اس کے بعد عورت اور پہلا شوہر دونوں کی رضا مندی سے، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں، دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔
القرأن الكريم: [البقرة:/2 230]
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ .
««سنن ابن ماجه» (3/ 197 ،رقم الحديث: 2039،ط:دارالرسالة العالمية)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة.
الهندية:(1/ 473، ط: دارالفكر)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية .
اللباب :(3/ 58، ط: المكتبة العلمية )
وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها. والصبي المراهق في التحليل كالبالغ .