حلالہ اور طلاق مغلظہ

جاؤمیں نے تجھے طلاق دی ، تم مجھ پر حرام ہو ، میری طرف سے تم آزاد ہو کاحکم

فتوی نمبر :
1896
معاملات / احکام طلاق / حلالہ اور طلاق مغلظہ

جاؤمیں نے تجھے طلاق دی ، تم مجھ پر حرام ہو ، میری طرف سے تم آزاد ہو کاحکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا : جاؤمیں نے تجھے طلاق دی ، تم مجھ پر حرام ہو ، میری طرف سے تم آزاد ہو ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی اور ان الفاظ کے بعد رجوع کا کوئی حق باقی رہتا ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں عورت پر تین طلا ق مغلظہ واقع ہوگئی ہیں ،لہذا اب بغیر حلالہ شرعیہ کے رجوع کا کوئی حق باقی نہیں رہتا ۔

حوالہ جات

الشامية : (3/ 248، ط: دارالفكر)
أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق ‌يلزمني، والحرام ‌يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ.

ايضا : (3/ 299، ط: دارالفكر)
بخلاف فارسية قوله ‌سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين ‌سرحتك فإن ‌سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي ‌سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.

الهندية: (1/ 473، ط: دارالفكر)
وإن كان الطلاق ‌ثلاثا ‌في ‌الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 1896کی تصدیق کریں