مسواک کی سنت زندہ کرنے کے لیے دانتوں کا ہونا ضروری نہیں

فتوی نمبر :
1163
طہارت و نجاست / طہارت /

مسواک کی سنت زندہ کرنے کے لیے دانتوں کا ہونا ضروری نہیں

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی بڑھاپے کی وجہ سے سارے دانت گر گئے ہیں ، وہ وضو کے دوران مسوڑوں پر مسواک ملتا ہے ۔
پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح کرنے سے مسواک کی سنت ادا ہوگی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دانت نہ ہونے کی صورت میں مسوڑوں پر مسواک پھیرنے سے مسواک کی سنت ادا ہوجاتی ہے ، البتہ اگر وہ مسواک کی جگہ انگلی سے یاکسی اور نرم چیز سے اپنے مسوڑوں کو مل دے تو بھی مسواک کے ثواب سے محروم نہیں ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ ۔

حوالہ جات

الدرالمختار: (1/ 115، ط: دارالفكر)
وعند فقده ‌أو ‌فقد ‌أسنانه تقوم الخرقة الخشنة أو الأصبع مقامه، كما يقوم العلك مقامه للمرأة مع القدرة عليه.

البحر الرائق: (1/ 21، ط:دارالكتاب الاسلامي )
وتقوم الأصبع أو ‌الخرقة ‌الخشنة مقامه عند فقده أو عدم أسنانه في تحصيل الثواب لا عند وجوده والأفضل أن يبدأ بالسبابة اليسرى ثم باليمنى والعلك يقوم مقامه للمرأة لكون المواظبة عليه تضعف أسنانها فيستحب لها فعله.

الهندية: (1/ 7، ط: دارالفكر)
فإن لم توجد الخشبة فحينئذ يقوم الأصبع من يمينه ‌مقام ‌الخشبة. كذا في المحيط والظهيرية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 1163کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --