ایک ملازم کسی کمپنی میں ملازمت کرتا ہے اور کمپنی کا اصول یہ ہے کہ ہر ملازم کو اس کی تنخواہ بروقت دی جاتی ہے چاہے یومیہ حساب سے ہو یا ہفتہ وار اور یا ماہانہ ، اس دوران اگر کوئی ملازم کام چھوڑ کر چلا جائے تو اس کے جتنے دن کام کے ہوتے ہیں اتنے دنوں کی تنخواہ اس کو دی جاتی ہے کسی قسم کی کوئی کٹوتی نہیں ہوتی ، اور نہ ہی کام پر رکھتے ہوئے اس طرح کا کوئی معاہدہ کیا جاتا ہے ۔
شریعت کی رو سے مذکورہ معاملے کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ ملازم کو اس کا حق پورا پورا دینا کمپنی پر لازم ہے ، اس لیے مذکورہ صورت شرعا درست ہے ۔
صحيح البخاري: (3/ 83، رقم الحديث : 2227،ط: دار طوق النجاة)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال الله: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعط أجره.
الهندية: (2/ 167، ط: دارالفكر)
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.
البحر الرائق : (5/ 44، ط: دار الكتاب الإسلامي )
إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي .