کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی کے ملازمین کے لیے روزمرہ کے اوقات کار طے ہیں روزانہ صبح سے مغرب تک ، کبھی مغرب جلدی ہوتی ہے کبھی دیر سے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔
پوچھنایہ ہے کہ اس طرح ملازمت کا شرعی حکم کیا ہے؟
واضح رہے کہ کمپنی کا ملازمین کو ملازمت پر رکھتے وقت اوقات کار کو رضامندی سے طے کرنا ضروری ہے ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں کمپنی کے طے کردہ اوقات کار درست ہے ، البتہ بہتر یہ ہے کہ کام کا وقت مقرر کریں مثلا شام سات تک وغیرہ ۔
الهندية: (4/ 411، ط: دارالفكر)
وأما في حق الأجير الخاص فلا يشترط بيان جنس المعمول فيه ونوعه وقدره وصفته وإنما يشترط بيان المدة فقط .
الموسوعة الفقهية : (1/ 262، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)
أما في الأجير الخاص فإنه يكفي في إجارته بيان المدة. يقول الشيرازي: إن كانت المنفعة معلومة القدر بنفسها، كخياطة ثوب، قدرت بالعمل؛ لأنها معلومة في نفسها فلا تقدر بغيرها.
مجلة الأحكام العدلية: (ص86، ط: نور محمد، كراتشي)
(المادة 448) : يشترط في صحة الإجارة رضا العاقدين.