صدقہ

ہرمہینے کی تنخواہ میں سے بکرا صدقہ کرنے کی نذر ماننے کی صورت میں اتنی قیمت کا راشن صدقہ کرنا

فتوی نمبر :
2197
عبادات / زکوۃ و صدقات / صدقہ

ہرمہینے کی تنخواہ میں سے بکرا صدقہ کرنے کی نذر ماننے کی صورت میں اتنی قیمت کا راشن صدقہ کرنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
امید ہے سب گروپ ممبر خیر وعافیت سے ہوں گے ۔میرے دوست نے یہ عہد کیا کہ وہ ہر مہینے تنخواہ آنے پر ایک بکرا صدقہ کرے گا ۔
اب اس کو کسی نے کہا کہ آپ جس رقم کا بکرا خرید کر صدقہ کرتے ہو اتنی رقم کا راشن وغیرہ لے کر مستحق افراد کو دے دو ، آپ کی صدقہ کی جو منت ہے وہ پوری ہو جائے گی،کیا ایسے کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی شخص نے یہ نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں فلاں متعین جانور ذبح کرکے اللہ کے لیے صدقہ کروں گا، جب وہ کام پورا ہو جائے تو اسی متعین جانور کو ذبح کرنا لازم ہوگا اور اس کا سارا گوشت فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ اس صورت میں جانور کے بدلے رقم یا کوئی چیز دینا کافی نہیں۔
البتہ اگرکسی متعین جانور کی نذر نہیں مانی، بلکہ صرف مطلق طور پر جانور صدقہ کرنے کی نذر مانی ہو تو ایسی نذر میں جانور ذبح کرنے کے بجائے اس کی قیمت کا صدقہ کرنا بھی جائز ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ معین جانور کی نذر نہیں مانی گئی، اس لیے اس کی قیمت کا راشن خرید کر فقراء کو دینا درست ہے، اس طرح کرنے سے نذر پوری ہو جائے گی۔

حوالہ جات

*الدرالمختار:(735/3،ط: دارالفكر)*
(ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى».

*الشامية:(735/3،ط: دارالفكر)*
(قوله لزم الناذر) أي لزمه الوفاء به والمراد أنه يلزمه الوفاء بأصل القربة التي التزمها لا بكل وصف التزمه لأنه لو عين درهما أو فقيرا أو مكانا للتصدق أو للصلاة فالتعيين ليس بلازم بحر، وتحقيقه في الفتح.

*حاشية الطحطاوي:(698/1،ط:دار الكتب العلمية)*
نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة كتصدقه بثمنه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2197کی تصدیق کریں