نماز میں متعدد غلطیوں کے لیے ایک سجدہ سہو واجب ہے

فتوی نمبر :
1181
عبادات / نماز /

نماز میں متعدد غلطیوں کے لیے ایک سجدہ سہو واجب ہے

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص پر کسی غلطی کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگیا ، اس کے بعد اس نے دوسری رکعت میں ایک اور غلطی کردی تو اب اس پر دو سجدہ سہو واجب ہوں گے یا ایک ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ سجدہ سہو میں تکرار نہیں ہوتا ، لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک ہی سجدہ سہو واجب ہوگا ۔

حوالہ جات

الهندية: (1/ 130، ط: دارالفكر)
السهو ‌في ‌سجود ‌السهو لا يوجب السهو؛ لأنه يتناهى، كذا في التهذيب ولو سها في سجود السهو عمل بالتحري ولو سها في صلاته مرارا يكفيه سجدتان، كذا في الخلاصة.

المبسوط: (1/ 224، ط: دار المعرفة )
قال: (وإذا سها ‌في ‌صلاته ‌مرات لا يجب عليه إلا سجدتان) لقوله عليه الصلاة والسلام: «سجدتان تجزئان عن كل زيادة أو نقصان»، ولأن سجود السهو إنما يؤخر إلى آخر الصلاة لكي لا يتكرر في صلاة واحدة بتكرر السهو.

الهداية : (1/ 74، ط: دار احياء التراث العربي)
ولأن سجود السهو ‌مما ‌لا ‌يتكرر فيؤخر عن السلام حتى لو سها عن السلام ينجبر به .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
56
فتوی نمبر 1181کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --