بیوہ کے لیے عدت کے دوران پردہ کا حکم

فتوی نمبر :
1194
معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ /

بیوہ کے لیے عدت کے دوران پردہ کا حکم

السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ کرام کہ عدت کے دوران بیوہ عورت کا کس کس سے پردہ ہوگا اور کس سے نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عورت کے لیے نامحرم مرد سے پردہ کرنا صرف عدت کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ نامحرم سے پرہ ہر حال میں ضروری ہے، چاہے عورت عدت کی حالت میں ہو یا عام حالت میں۔

حوالہ جات

*القرآن الكريم:(الاحزاب55:33)*
لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآىٕهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّۚ-وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا(55)

*الشامية:(406:1،ط:دارالفكر)*
(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة كما يأتي

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
64
فتوی نمبر 1194کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --