چوری کا مال یا مشتبہ مال خریدنا

فتوی نمبر :
1196
معاملات / مالی معاوضات /

چوری کا مال یا مشتبہ مال خریدنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
سوال یہ ہے کہ بڑے ٹریلر یا ٹرک وغیرہ اپنی گاڑیوں کا ڈیزل دوکانداروں کو عام ڈیزل کی قیمتوں سے کم ریٹ پر بیچتے ہیں "اور اس میں کئی احتمال ہیں مثلاً: اگر کراچی سے لاہور کا 50 لیٹر لگتا ہے تو وہ ساٹھ یا ستر کی ایوریج بتاتے ہیں اور جو بچ جاتا ہے وہ بیچ دیتے ہیں، ایک احتمال یہ بھی ہے کہ مالک بول دیتا ہے کہ یہی ڈیزل ہے بچے یا کم ہو میں ذمہ دار نہیں ہوں، اس صورت میں بھی بچا کر بیچ دیتے ہیں وغیرہ" یقینی بات کوئی نہیں، مشکوک بات صرف یہ ہے کہ کم ریٹ پر دوکانداروں کو بیچتے ہیں اور دوکاندار پھر پمپ سے پندرہ بیس روپے کم ریٹ پر لوگوں کو بیچتے ہیں۔
تو کیا عوام کا ان دوکانداروں سے ڈیزل خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
یا اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ ڈرائیور نے مالک سے چوری چھپے بیچا ہے تو پھر کیا حکم ہے ؟
جزاکم اللہ خیرا و احسن الجزاء فی الدارین

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر ڈیزل کے متعلق یقین ہو یا غالب گمان ہو کہ یہ اصل مالک کی رضامندی کے بغیر فروخت کیا گیا ہے تو اس کا خریدنا درست نہیں اور اگر غالب گمان ہو کہ اصل مالک کی رضامندی سے فروخت کیا ہے تو پھر اس کا خریدنا درست ہوگا اور اگر شک ہو تو نہ خریدنا بہترہے ۔

حوالہ جات

*صحیح البخاری:(رقم الحدیث52ط:دارطوق النجاة)*
حدثنا أبو نعيم، حدثنا زكرياء، عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشبهات، لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات كراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب.

*الھندیة:(364/5،دارالفکر)*
فكل عين قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
41
فتوی نمبر 1196کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --