السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
آپ خیرخیریت سے ہوں گے مسئلہ یہ ہے کہ میرے کچھ دوست و احباب ہیں اور وہ مختلف فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فرض نماز کے بعد امام صاحب جو دعا کرواتے ہیں یہ جائز نہیں ہے، البتہ اگر سنت وغیرہ سب کچھ پڑھنے کے بعد کروائے تو پھر جائز ہے تو اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں؟
فرض نماز کے بعد دعا کرنا سنت اور باعثِ برکت عمل ہے، البتہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اجتماعی دعا کو مستقل سنت یا واجب سمجھنا درست نہیں، اصل مقصود دعا ہے، نہ کہ سب کا ایک ساتھ بیٹھنا یا ایک ساتھ شروع اور ختم کرنا، اگر اس کو لازم سمجھ لیا جائے کہ دعا کی ابتدا اور انتہا ہر حال میں امام کے ساتھ ہی ہو تو اس سے کئی مفاسد پیدا ہوتے ہیں، مثلاً مقتدی حضرات اپنی دعا ختم کرنے کے بعد بھی محض اس خیال سے بیٹھے رہتے ہیں کہ امام کی دعا ابھی جاری ہے، یا اگر کوئی مقتدی پہلے اپنی دعا ختم کر کے اٹھ جائے تو لوگ اسے معیوب سمجھتے ہیں اور طعن کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دعا میں اجتماع محض ایک ضمنی پہلو ہے، اصل مقصد ہر ایک کا اپنے طور پر دعا مانگنا ہے۔
امام کو اختیار ہے کہ جتنی دیر چاہے دعا کرے، اسی طرح مقتدی کو بھی اختیار ہے کہ چاہے تو مختصر دعا مانگ کر چلا جائے، چاہے امام کے ساتھ ختم کرے اور چاہے تو امام سے زیادہ دیر تک دعا کرتا رہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں، نہ ایک دوسرے کا تابع ہونا لازم ہے۔
خلاصہ یہ کہ فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا مستقل سنت نہیں، لیکن ناجائز بھی نہیں، کیونکہ دعا کی اصل کتاب و سنت سے ثابت ہے، لہٰذا ہر شخص اپنی سہولت اور اخلاص کے مطابق دعا کرے اور دوسروں پر پابندی یا طعن و تشنیع سے اجتناب کرے۔
*السنن الكبري للنسائي:(48/9،رقم الحديث: 9856 ط:مؤسسةالرسالة)*
أخبرنا محمد بن يحيى بن أيوب قال: حدثنا حفص بن غياث قال: حدثنا ابن جريج، عن ابن سابط، عن أبي أمامة قال: قلت: يا رسول الله، أي الدعاء أسمع؟ قال: «جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات.
*مراقي الفلاح شرح نور الايضاح:(119/1 ،ط: المکتبۃ العصریة)*
ثم يدعون لأنفسهم و للمسلمين بالأدعية المأثورة الجامعة (إلی قوله) "رافعي أيديهم" حذاء الصدر و بطونها مما يلي الوجه بخشوع و سكون ثم يختمون بقوله تعالى {سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ} الآية (إلی قوله) و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : "من قال دبر كل صلاة {سُبْحَانَ رَبِّكَ.....} الآية ثلاث مرات فقد اكتال بالمكيال الأوفى من الأجر" "ثم يمسحون بها أي بأيديهم "وجوههم في آخره" اھ
*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :755/2،ط: دار الفکر)*
لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم كثيرا ينصرف عن يساره : هذا يدل على كمال اطلاع الراوي على أحواله صلى الله عليه وسلم قال الطيبي وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعةأو منكر.
*اعلاء السنن:(205/3،ط:(ادارةالقرآن والعلم الاسلامیة)*
ورحم الله طائفة من المبتدعة في بعض اقطار الهند حيث واظبوا على ان الامام ومن معه يقومون بعد المكتوبة بعد قراء تهم اللهم انت السلام ومنك السلام الخ ثم اذا فرغوا من فعل السنن والنوافل يدعو الامام عقب الفاتحة جهرا بدعاء مرة ثانية والمقتدون يؤمنون على ذلك وقد جرى العمل منهم بذلك على سبيل الالتزام والدوام حتى أن بعض العوام اعتقدوا ان الدعاء بعد السنن والنوافل باجتماع الامام والمأمومين ضرورى واجب ومن لم يرض بذلك يعزلونه عن الامامةويطعنونه ولا يصلون خلف من لا يصنع بمثل صنيعهم وايم الله ان هذا امر محدث في الدين.