احکام وراثت

ترکے کے گھر میں ایک بھائی کی رہائش کی صورت میں گیس بجلی کے بل کا حکم

فتوی نمبر :
1238
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ترکے کے گھر میں ایک بھائی کی رہائش کی صورت میں گیس بجلی کے بل کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے دادا کا کچھ عرصہ پہلے انتقال ہوا انہوں نے مال وراثت میں ایک گھر چھوڑا جس کی قیمت تقریبا دو کروڑ 50 لاکھ روپے ہے دادا کی کل آٹھ اولاد ہیں جن میں سے سات بیٹے ہیں اور ایک بیٹی دادا جب تک حیات تھے ان کے کسی بھی اولاد کا انتقال نہیں ہوا تھا لیکن دادا کے انتقال کے بعد ان کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کا انتقال ہو گیا یہ دونوں بیٹے اور بیٹی دادا کے حیات میں ہی دادا کے گھر سے نکل کر کسی دوسری جگہ رہائش پذیر ہو گئے تھے اور تقریبا 50 60 سال تک یہ لوگ دوسری جگہ مقیم رہے جبکہ دادا کی دوسری اولاد اور ان کی فیملی ان 50 یا 60 سال کے دوران دادا کے گھر میں ہی رہائش پذیر رہی اور گھر کی تمام سہولیات پانی گیس بجلی وغیرہ استعمال کرتے رہے پھر دادا کے انتقال کے بعد جب ان کا گھر بیچا گیا جس کی قیمت تقریبا دو کروڑ 50 لاکھ روپے ہیں تو اب دادا کے وہ بیٹے جو 50 60 سال تک اس گھر میں رہ رہے تھے اور پانی بجلی گیس وغیرہ کا بل بھر رہے تھے ان کا کہنا یہ ہے کہ جب اس گھر کی قیمت میں تمام اولاد شریک ہیں تو پانی گیس بجلی وغیرہ کے بلوں میں بھی تمام اولاد شریک ہوگی اور سب کو مل کر بل کے پیسے دینے ہوں گے چاہیں کوئی بیٹا اس گھر میں رہ رہا ہو یا نہ رہ رہا ہوں جبکہ دادا کی وہ اولاد جو 50 60 سالوں سے دادا کی حیات میں ہی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی ان کا کہنا ہے کہ جب ہم اس گھر میں رہ ہی نہیں رہے تھے تو بل کیوں بھریں گے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعاً کسی چیز سے نفع حاصل کرنے والے پر ہی اس چیز کے اخراجات لازم ہوتے ہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں متروکہ گھر میں جو ورثا رہائش پذیر تھے اور جنہوں نے گیس، بجلی، پانی وغیرہ کی سہولیات سے فائدہ اٹھایا، انہی پر ان سہولیات کے بل ادا کرنا لازم ہے۔ جو ورثااس گھر میں نہیں رہتے تھے اور ان سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا رہے تھے، ان پر ان بلوں کی ادائیگی واجب نہیں۔
اگرچہ وراثت میں تمام ورثا اس گھر کے مشترک مالک ہیں، لیکن چونکہ استعمال اور انتفاع صرف رہائش پذیر ورثا کو حاصل تھا، اس لیے انہی پر اخراجات لازم ہوں گے۔ غیر رہائش پذیر ورثا سے ان بلوں کی رقم کا مطالبہ شرعاً درست نہیں۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي:(561/2،رقم الحديث:1286،ط: دارالغرب الإسلامي)*
حدثنا أبو سلمة يحيى بن خلف، قال: أخبرنا عمر بن علي المقدمي ، عن هشام بن عروة ، عن أبيه ، عن عائشة ؛ «أن النبي ﷺ قضى أن الخراج» بالضمان.

*درر الحكام:(88/1،ط: دار الجيل)*
(المادة ٨٥):الخراج بالضمان هذه المادة هي نفس الحديث الشريف «الخراج بالضمان» وهي المادة ٨٧ (الغرم بالغنم):والمادة ٨٨ كلها بمعنى واحد وإن اختلفت الألفاظ فكان من الواجب الاكتفاء بواحدة منها.
الخراج: هو الذي يخرج من ملك الإنسان أي ما ينتج منه من النتاج وما يغل من الغلات كلبن الحيوان ونتائجه، وبدل إجارة العقار، وغلال الأرضين وما إليها من الأشياء. ويقصد بالضمان المؤنة كالإنفاق على الحيوان ومصاريف العمارة للعقار.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
57
فتوی نمبر 1238کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --