اذان و اقامت

رمضان میں قیام اللیل کی جماعت کا حکم

فتوی نمبر :
1265
عبادات / نماز / اذان و اقامت

رمضان میں قیام اللیل کی جماعت کا حکم

اگر رمضان میں رات کے بارہ بجے یا ایک بجے قیام اللیل (نفل) کی نماز پڑھی جا رہی ہو تو کیا اس وقت جماعت کے ساتھ پڑھنا جائز ہے؟ اور کیا اس امام کے پیچھے شامل ہو کر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صلوٰۃ الکسوف، صلوٰۃ الاستسقاء اور تراویح کے علاوہ کسی بھی طرح کی نفل نماز کو جماعت کے ساتھ مستقل طور پر ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے( خواہ رمضان میں ہو یا غیر رمضان ‏میں)، البتہ اگر اعلان و اہتمام اور تداعی کے بغیر دو تین افراد اتفاقاً مل کر نفل جماعت سےپڑھ لیں تو اس میں حرج نہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں قیام اللیل کی باقاعدہ جماعت کرانا اور اس میں شرکت کرنا جائز نہیں ،البتہ اگر رمضان میں قیام اللیل کا اہتمام کرنا مقصود ہو تو بہتر صورت یہ ہے کہ عشاء کے بعد تراویح کی کچھ رکعات چھوڑ دی جائیں اور رات کے آخری حصے میں انہی رکعات کو جماعت سے پڑھ لیا جائے، اس طرح تراویح اور قیام اللیل دونوں کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(366/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وفي الكسوف والتراويح سنة وسيأتي أن الصحيح أنها في التراويح سنة على الكفاية ونص في جوامع الفقه على أنها فيها واجبة وهو غريب ويستحب في الوتر في رمضان على قول ولا يستحب فيه على قول وهي مكروهة في صلاة الخسوف وقيل لا، وأما ما عدا هذه الجملة ففي الخلاصة الاقتداء في الوتر خارج رمضان يكره، وذكر القدوري أنه لا يكره وأصل هذا أن التطوع بالجماعة إذا كان على سبيل التداعي يكره في الأصل للصدر الشهيد أما إذا صلوا بجماعة بغير أذان وإقامة في ناحية المسجد لا يكره، وقال شمس الأئمة الحلواني إن كان سوى الإمام ثلاثة لا يكره بالاتفاق، وفي الأربع اختلف المشايخ والأصح أنه يكره اهـ

*المحیط البرھانی:(438/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ولا يصلي تطوع بجماعة إلا قيام رمضان فقد استثني عن النهي قيام رمضان، وكما أن قيام رمضان مستثنى عن النهي فصلاة الكسوف يجوز أداؤها بالجماعة مع أنها تطوع ذكر محمد في «الأصل» وحكى عن الشيخ الإمام شمس الأئمة السرخسي دقيقة في كراهة أداء التطوع بالجماعة، وسيأتي بيانها في مسائل التراويح في نوع المتفرقات إن شاء الله تعالى.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
56
فتوی نمبر 1265کی تصدیق کریں