اذان و اقامت

نابالغ بچے کا امامت کرانا

فتوی نمبر :
1337
عبادات / نماز / اذان و اقامت

نابالغ بچے کا امامت کرانا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت و عافیت سے ہوں گے۔
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے:عرب ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ جب مسجد میں با جماعت نماز ادا ہو جاتی ہے تو بعد میں آنے والے لوگ الگ ہو کر اپنی جماعت کروا لیتے ہیں۔ آج میں نے دیکھا کہ ایک 10 یا 12 سال کا بچہ امام تھا اور اس کے پیچھے 25 افراد نماز پڑھ رہے تھے، جن میں بڑی عمر کے افراد بھی شامل تھے، پوچھنا یہ ہے کہ:کیا ایسے نابالغ (چھوٹے) بچے کے پیچھے بڑے لوگوں کی جماعت درست ہے یا نہیں؟
اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جمہور فقہائے کرام کے نزدیک بالغ افراد کا نابالغ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ نابالغ کی نماز نفل ہوتی ہے، جبکہ بالغ افراد کی نماز فرض ہوتی ہے اور نفل پڑھنے والے کی اقتدا میں فرض پڑھنے والے کی نماز درست نہیں ہوتی ۔

حوالہ جات

*رد المحتار:(550/1 ،ط: دارالفکر)*
وأما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة، فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام والبلوغ والعقل والذكورة والقراءة والسلامة من الأعذار كالرعاف والفأفأة والتمتمة واللثغ وفقد شرط كطهارة وستر عورة.

*الجوہرةالنيرة:(99/1،ط:المطبعةالخيرية)*
وفي الهداية ‌إمامة الصبي في التراويح والسنن المطلقة جوزه مشايخ بلخي ولم يجوزه مشايخنا؛ لأن نفل الصبي دون نفل البالغ حيث لا يلزمه القضاء بالإفساد بالإجماع ولا يبني القوي على الضعيف.

*الفتاوى الهندية (1/ 85،ط: دارالفکر)*
وإمامة الصبي المراهق لصبيان مثله يجوز، كذا في الخلاصة ... المختار أنه لايجوز في الصلوات كلها، كذا في الهداية وهو الأصح. هكذا في المحيط وهو قول العامة وهو ظاهر الرواية. هكذا في البحر الرائق.

*الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(2/ 1193،ط:دارالفكر)*
البلوغ: فلا تصح إمامة المميز عند الجمهور للبالغ، في فرض أو نفل عند الحنفية، وفي فرض فقط عند المالكية والحنابلة، أما في النفل ككسوف وتراويح فتصح إمامته لمثله، لأنه متنفل يؤم متنفلاً، ودليلهم ما روى الأثرم عن ابن مسعود وابن عباس: «لا يؤم الغلام حتى يحتلم ولأن الإمامة حال كمال، والصبي ليس من أهل الكمال، ولأنه لا يؤمن الصبي لإخلاله بشروط الصلاة أو القراءة.وقال الشافعية: يجوز اقتداء البالغ بالصبي المميز، لما روي عن عمرو بن سلمة قال: «أممت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا غلام ابن سبع سنين والأصح صحة إمامة الصبي عندهم في الجمعة أيضاً، مع الكراهة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 1337کی تصدیق کریں