نجاسات اور پاکی

کپڑوں پر مٹی کا تیل لگ جانے کا حکم

فتوی نمبر :
1287
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کپڑوں پر مٹی کا تیل لگ جانے کا حکم

میں مٹی کے تیل کا کام کرتاہوں ،کام کرتے ہوئےمیرے کپڑوں پر متی کا تیل بھی لگتارہتاہےتو میرا پوچھنا یہ ہے کہ کپڑوں پر مٹی کاتیل لگ جانے سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں یا پاک ہی رہیں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مٹی کا تیل پاک ہے ،اس لیےکپڑوں پرلگ جانے سےکپڑے نا پاک نہیں ہوں گے۔

حوالہ جات

*الشامیة:(1/ 185،ط:دارالفکر)*
حكم ‌سائر ‌المائعات كالماء في الأصح.
(قوله: وحكم سائر المائعات إلخ) فكل ما لا يفسد الماء لا يفسد غير الماء وهو الأصح محيط وتحفة والأشبه بالفقه بدائع. اهـ. بحر، وفيه من موضع آخر وسائر المائعات كماء في القلة والكثرة، يعني كل مقدار لو كان ماء تنجس، فإذا كان غيره ينجس اهـ ومثله في الفتح.

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:(1/ 4،ط:دار المعرفة)*
(سئل) فيما إذا وقع ضفدع ماء في عصير عنب ومات فيه فهل ينجسه أو لا؟
(الجواب) : ‌حكم ‌سائر ‌المائعات حكم الماء في الأصح كما في النهر والدر وموت الضفدع فيه لا ينجسه كما في الكنز وغيره فلا ينجس العصير وفي الهداية والضفدع البري والبحري سواء.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1287کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --