نجاسات اور پاکی

مٹی کےتیل سےکپڑےدھونے کاحکم

فتوی نمبر :
1290
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

مٹی کےتیل سےکپڑےدھونے کاحکم

اگر کوئ شخص مٹی کےتیل سےکپڑے دھولےتو اس سےکپڑےپاک شمارہوں گے یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ظاہری گندگی کو صاف کرنے کے لیے پانی ضروری نہیں، بلکہ ہر پاک مائع چیز سے صفائی کی جاسکتی ہے۔ مٹی کا تیل پاک ہے، ناپاک نہیں، لہٰذا کپڑوں کو مٹی کے تیل سے دھونے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے۔

حوالہ جات

*مختصر القدوري:(ص21،ط:دار الكتب العلمية)*
ويجوز ‌تطهير ‌النجاسة ‌بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالخل وماء الورد

*الهندية:(1/ 41،ط:دارالفكر)*
ما يطهر به النجس عشرة: (منها) الغسل يجوز ‌تطهير النجاسة ‌بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالخل وماء الورد ونحوه مما إذا عصر انعصر. كذا في الهداية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1290کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --